لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے آزدی اور انقلابی مارچ سے متعلق گزشتہ روز دیئے گئے اپنے مختصر فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کے مطالبات آئین کی خلاف ورزی ہیں اور آئین کی خلاف ورزی پر کارکنوں اور ان کے رہنماؤں کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ دھاندلی پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے تو اس صورت میں وہ لانگ مارچ نہیں کریں گے لیکن جب وزیراعظم کی جانب سے پیش کش کی گئی تو عمران خان نے اسے مسترد کردیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو غیر آئینی دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے انہیں اس صورت میں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
دوسری جانب عدالت نے لاہور کی سڑکوں سے کنٹینر ہٹانے کے حکم پر حکومت پنجاب کی نظر ثانی کی اپیل سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے عدالتی کارروائی ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
Thursday, August 14, 2014
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے آزدی اور انقلابی مارچ سے متعلق گزشتہ روز دیئے گئے اپنے مختصر فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کے مطالبات آئین کی خلاف ورزی ہیں اور آئین کی خلاف ورزی پر کارکنوں اور ان کے رہنماؤں کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ دھاندلی پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے تو اس صورت میں وہ لانگ مارچ نہیں کریں گے لیکن جب وزیراعظم کی جانب سے پیش کش کی گئی تو عمران خان نے اسے مسترد کردیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو غیر آئینی دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے انہیں اس صورت میں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
دوسری جانب عدالت نے لاہور کی سڑکوں سے کنٹینر ہٹانے کے حکم پر حکومت پنجاب کی نظر ثانی کی اپیل سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے عدالتی کارروائی ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment