Friday, August 15, 2014

(دنیا بھر سے) - کیا یہ صحیح ہے؟

ظالموں نے ظالم کی انتہا کر دی کہ جب تک اس خاتون کی سانسیں اور روح جسم سے پرواز نہ کر گئی اس پر پتھراؤ جاری رکھا۔ فوٹو فائل اس غریب عورت کی موت کی دعوت کے انتظامات بھی خوب کئے جا رہے تھے۔ جب اعلی سطح کی جانب سے حکم صادر کیا گیا تو سب سے پہلے تو پتھروں سے بھرا ہوا ٹرک وہاں پہنچایا گیا۔ جس میں لدے پتھر اس خاتون کو اس کی موت کی نوید سنا رہے ہوں گے ۔ حیران کن بات یہ تھی کا باغیچے کے ارد گرد رہنے والے لوگ سوائے اس تماشے کو دیکھنے کہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے ۔ اگر کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے تو کسی کی موت کا تماشہ دیکھنے کا مقصد انسانیت کے تمام تقاضوں کو کچلنے کے عین مترادف ہے۔ آخر کار زندگی کی آخری سانسوں نے اسے آ گھیرا اور داعش کے دہشتگردوں کے پتھراؤ نے اس صنف نازک کی جان نکال دی ۔ یہ واقع تب پیش آیا جب شمالی شام کہ ایک شہر میں داعش کی بربریت ایک بار دوبارہ اپنے عروج کو پہنچی اور صرف مبینہ بدکاری کہ الزام میں ایک خاتون کو پتھروں کی بوچھار کی نظر کر دیا گیا۔ ظالموں نے ظالم کی انتہا کر دی کہ جب تک اس خاتون کی سانسیں اور روح جسم سے پرواز نہ کر گئی اس پر پتھراؤ جاری رکھا۔ رونا تو اس بات کا ہے کہ کھڑا مجمع یہ سارہ معجزا دیکھتا رہا پر کسی کی ہمت بھی نہیں تھی کہ اس ظلم کہ خلاف آواز اٹھاتا۔ سنگساری کا یہ کوئی پہلا واقع نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ خواتین کو کیسے سنگسار کیا جاتا رہا ہے۔ گناہ کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن داعش کی جانب سے کئے جانے والے ان مظالم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بلکل اسی طرح چند روز قبل ایک 26 سالہ لڑکی کو بھی شام میں سنگسار کر کہ قتل کر دیا گیا تھا۔ داعش جوکہ مشرق وسطع میں اسلامی خلافت کا اعلان کر چکی ہے ۔اس دہشتگرد تنطیم کہ بڑھتے ہوئے عوام پر ًمظالم انسانیت کی تزلیل ہیں۔ جبکہ داعش کی ان کارروائیوں سے نا صرف شام اور عراق کہ بسنے والے عوام متاثر ہو چکے ہیں ۔ بلکہ یہ تنظیم پوری امت مسلمہ کہ ساتھ ساتھ دنیا کے لئے ایک بہت گھمبیر مسلہ کا سبسب بن چکی ہے۔ حال ہی میں عراقی یزیدی قبیلہ کے عوام داعش کی ظلمانہ کاروائیوں کی بنا پر اپنے علاقوں سے کوچ کر کہ پہاڑوں کی اوٹ میں پناہ گزین ہیں۔ جہاں کم سے کم چالیس ہزار سے زائد افراد کو کھانے پینے کی قلت کا شدید سامنا ہے ۔ کیا ایسی شدت پسندی اور ظالمانہ اقدامات اسلام کی ترویج کا باعث بن سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر عالم اسلام داعش دہشتگرد تنظیم کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں اور شام اور عراق پر ہونے والے ان حملوں پر چپ کیوں ہے ؟۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب علم اسلام کی بڑی قوتوں کو ایک نا ایک دن ضرور دینا ہو گا، کیونکہ دین کی حرمت پہ حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اور داعش کی جانب سے بمبوں سے اڑا دیئے جانے والے اصحاب اور پیغمبروں کی مزارات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ایسے جھوٹے جہادیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment