اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک سے خاندانی حکومت ختم کرنے کےلئے حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے لہذا آج تمام پاکستانی اپنے بچوں اور ملک کے مستقبل کےلئے یہاں پہنچیں کیوں کہ شام کو اہم اعلان کروں گا۔ اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمارے یہاں ایک شخص دھاندلی کرکے خود کو وزیراعظم بول رہا ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ایک مہینے کےلئے استعفیٰ دے کر انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کروائیں اور دھاندلی ثابت نہ ہوتو وہ دوبارہ اپنا منصب سنبھال لیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی جمہوریت کا یہی اصول ہے اگر کسی وزیر پر کوئی الزام ہوتا ہے تو وہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دیتا ہے اور بے قصور ثابت ہونے پر دوبارہ عہدہ سنبھال لیتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے کہا جارہا تھا کہ دھرنوں اور احتجاج سے جمہوریت کو خطرہ ہے لیکن جب وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولتے ہیں تو کیا اس وقت جمہوریت کو خطرہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نے لاہورمیں پولیس والوں سے نہتے لوگوں پر گولیاں چلوائیں اور اپنا نام تک ایف آئی سے نکلوا دیا اگر یہ سب خیبر پختونخوا میں ہوتا اس کی آن لائن ایف آر درج ہوجاتی اور وزیراعلیٰ کسی پر گولی چلانے کا حکم بھی دیتے تو آئی جی انہیں منع کردیتے کیوں کہ وہاں پولیس غیر سیاسی ہے۔ تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے اور کہا کہ عمران خان کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے جب آئی جے آئی بنائی گئی تو فوج ان کے پیچھے تھی، جنرل ضیاالحق کی نرسری میں پلنے والے مجھے بول رہے ہیں کہ میرے پیچھے فوج ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے اگلے الیکشن شفاف بنانے کےلئے صرف 4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اپنے بیانات میں یہ بھی واضح کردیا تھا کہ اگر مجھے قانونی طریقے سے انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلوں گا، افغانستان میں 70 لاکھ ووٹوں کی تصدیق ہوسکتی ہے تو یہاں کیوں نہیں۔
Saturday, August 30, 2014
آج شام اہم اعلان کروں گا عوام اپنے بچوں اور ملک کے مستقبل کیلئے اسلام آباد پہنچیں ،عمران خان
وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
تحریک انصاف کے لائرز فورم نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں انصاف لائر فورم کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کی درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے قومی اسمبلی میں فوج کی ثالثی کے معاملے پر قوم سے جھوٹ بولا ہے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے جس کے تحت وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے اہل نہیں ہیں۔ درخواست میں تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو نواز شریف کی این اے 120 سے بطور رکن قومی اسمبلی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے۔
Wednesday, August 27, 2014
حصص مارکیٹ، وزیراعظم کے استعفے کی افواہ سے انڈیکس منہ کے بل آپڑا
کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو کاروباری سرگرمیاں سیاسی افق پر پھیلنے والی منفی افواہوں کی زد میں رہیں۔ وزیراعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران مارکیٹ میں وزیراعظم کے ممکنہ استعفیٰ کی افواہیں زیرگردش رہیں جس سے مندی کی شدت ایک موقع پر658 پوائنٹس تک جا پہنچی تھی کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ دینے کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام شدت اختیار کر جائے گا اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی ریٹنگ میں کمی کردیں گی۔ ان خدشات کے پیش نظر سرمایہ کاروں کی جانب سے دھڑا دھڑ حصص کی آف لوڈنگ کی گئی تاہم پارلیمنٹ سے خطاب ختم ہونے کے بعد ان منفی افواہوں نے دم توڑدیا جس کے سبب مارکیٹ میں دوبارہ خریداری سرگرمیاں بحال ہوئیں اور مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی تاہم مندی کے سبب انڈیکس کی28000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی، 71.30 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید81 ارب 23 کروڑ52 لاکھ3 ہزار116 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مندی کی شدت میں کمی کے لیے لسٹڈ کمپنی پی پی ایل کے اچھے مالیاتی نتائج کے اعلان نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف شعبوں کی جانب سے نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 50 لاکھ5 ہزار271 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر64.18 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے23 لاکھ8 ہزار891 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے11 لاکھ 945 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے8 لاکھ57 ہزار283 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے7 لاکھ38 ہزار153 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے مندی کے اثرات کو غالب کیا جس کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس432.24 پوائنٹس کی کمی سے 27811.35 ہوگیا۔ جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 332.46 پوائنٹس کی کمی سے19365.10 اور کے ایم آئی30 انڈیکس651.07 پوائنٹس کی کمی سے 45374.53 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 73.13 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ 23 لاکھ 12 ہزار500 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار345 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں79 کے بھائو میں اضافہ، 246 کے دام میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔بدھ کواسلام آباد اورلاہوراسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کارجحان رہا۔
حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔
حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔
حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔
موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے اپنا دورہ ترکی منسوخ کردیا
اسلام آباد: ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے اپنا دورہ ترکی منسوخ کردیا۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق موجودہ ملکی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کردیا، وزیراعظم کو نو منتخب ترک صدر رجب طیب اردوان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا تھی تاہم اب ان کی جگہ صدر مملکت ممنون حسین ترکی کا دورہ کریں گے جس کے لیے وہ آج روانہ ہوں گی۔ ایوان صدر نے صدر ممنون حسین کی ترکی روانگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ صدر مملکت اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد جمعہ کو وطن واپس آئیں گے۔
میرا آئندہ اعلان قانون کے مطابق مگر نوازشریف کے لیے خطرناک ہوگا، عمران خان

اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہےکہ اچھی خبر آنے والی ہے اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان 24 گھنٹے کے لیے ملتوی کررہا ہوں جبکہ میرا جو بھی اعلان ہوگا وہ جمہوریت اور آئین کے دائرے میں ہوگا لیکن وہ نوازشریف کے لیے خطرناک ہوگا جس کےبعد پہلی بار کوئی طاقتور قانون کے نیچے آئے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی پر انصاف کے لئے 14 ماہ تک پارلیمنٹ سمیت ہردروازے پر دستک دی لیکن ہمارے سامنے ہر درواز بند کردیا گیا،ٹریبونلز میں 90 فیصد کیسز تکنیکی وجوہات بناکر نمٹا دیئے گئے اور جو بھی حلقہ کھلا وہاں ریکارڈ دھاندلی سامنے آئی تاہم 14 ماہ بعد بھی انصاف نہ ملنے پر عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق سڑکوں پر آکر احتجاج کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آج حکومت عوام کے دباؤ پر نوازشریف کے استعفے کے سوا سب کچھ ماننے کو تیار ہے اگر ہمیں اعتماد ہوتا کہ نوازشریف کی وزرات عظمیٰ میں انصاف مل سکتا ہے تو کب کا قبول کرلیتے لیکن جب وزیراعظم خود دھاندلی میں ملوث ہیں جس کے ہمارے پاس تمام ثبوت ہیں،شہباز شریف کے ہوتے ہوئے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف نہیں مل سکتا اس لیے شریف برادران کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ ہم یہاں سے چلے جائیں، مجھے نائب وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی گئی تاکہ مجھے خریدا جاسکے لیکن میں تمام جدوجہد پاکستان کے لئے کررہاہوں اگر عوام اس موقع پر پیچھے ہٹ گئے تو نوازشریف کے ہوتے ہوئے کسی صورت آزادانہ تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔ چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے اگر ہم اس وقت صحیح فیصلہ کریں گے تو نیا پاکستان بن جائے گا اور اگر ہم یہاں سے چلے گئے تو نوازشریف وہی کریں گے جو ہمیشہ کیا، یہ لوگ سب کو خرید لیں گے۔ عمران خان نے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب نوازشریف کے استعفے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،چاہے جو مرضی ہوجائے نوازشریف کے استعفے کے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے کیونکہ اب حکومت سے بات چیت کیلئے کوئی گنجائش نہیں رہی جبکہ ہم یہ سب فوج کے کہنے پر نہیں کررہے ہیں یہ ہمارا جمہوری حق ہے جس کے لیے تمام جمہوری طریقے اختیار کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام چیزوں پر رضا مندی ظاہر کی اور صرف تحقیقات کے دوران تک نوازشریف کو مستعفی ہونے کا کہا جس کے بعد اگر دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو وزیراعظم واپس آجائیں اور اگر دھاندلی ثابت ہوگئی تو ملک میں ری الیکشن کرائے جائیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارا کوئی مطالبہ غیر جمہوری نہیں یہ سب جمہور یت کا حصہ ہے لیکن حکومت نے مطالبات نہیں مانے کیونکہ انہیں تحقیقات میں دھاندلی کے سامنے آنے کا ڈر تھا۔ انہوں نے کہا کہ افضل خان نے الیکشن میں دھاندلی کا انکشاف کیا انہیں اب حکومت کی جانب سے دھمکیاں دی جائیں گی، حکومت اب سچ بولنے کے لیے سامنے آنے والے لوگوں کے پیچھے پڑ جائے گی اور آزادانہ تحقیقات نہیں ہونے دے گی۔ ان کہنا تھا کہ جمہوریت بچانے کے لیے نوازشریف کے استعفیٰ کے علاوہ کسی صورت کوئی چیز قبول نہیں،، فیصلہ کن وقت آ پہنچا ہے، قوم فیصلہ کرے کہ ظالم نظام کا حصہ رہنا ہے یا نیا پاکستان بنانا ہے،میں جمہوری انسان ہوں کبھی فوجی یا غیر جمہوری قوت کا حصہ نہیں بنا، صرف پرویز مشرف کو ریفرنڈم میں حمایت کی جس پر قوم سے معافی بھی مانگی۔
تھرپارکر سے این اے 230 کے ریٹرننگ آفیسر نے دھاندلی کا اعتراف کرلیا
مٹھی: تھرپارکرکے این اے 230 کے ریٹرننگ آفیسر اور سینئر سول جج کی جانب سے الیکشن 2013 میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کااعتراف کیا گیا ہے مذکورہ حلقے سے پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور انھیں شکست ہوئی تھی۔ ریٹرننگ آفیسر میاں فیاض ربانی نے اپنی رہائش گاہ پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے حلقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی، اس حلقے میں 34 پولنگ اسٹیشنوں کا تمام ریکارڈ مسلح افراد نے جلا دیا تھا اورعملے کو 3 روز تک یرغمال بنایاگیا جنھیں آرمی کی مدد سے بازیاب کرایاگیاتھا۔ آراو نے کہا کہ دھاندلی کی تمام رپورٹس الیکشن کمیشن کوبھیج دی تھیں مگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیاگیا، دوسری بار ری پولنگ کے لیے میں نے فوج کو بلانے کا لکھا جس کے بعد فوج کی نگرانی میں الیکشن کرایا گیا۔ فیاض ربانی نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت نادراکی جانب سے حلقے کی پی ایس باسٹھ پرانگوٹھوںکی تصدیق سے بھی واضح ہوگیا ہے۔ اس جانچ میں3 ہزار شناختی کارڈزجعلی نکلے،جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ بڑی تعداد میں جھوٹے کارڈ نمبر لگائے گئے۔ دھاندلی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، اس کے متعلق بھی الیکش کمیشن کو آگاہ کردیا تھا، مگر بروقت کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ یہ واضح ثبوت ہیں کہ تھر میں ری پولنگ ہوئی اس سے زیادہ کیا ثبوت ملیں گے۔ الیکشن سے پہلے بھی الیکشن کمیشن کو دھاندلی روکنے کے لیے ایک جامع رپورٹ دی گئی تھی جس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار پیر نور محمد شاہ جیلانی نے پی ٹی اے کے مخدوم شاہ محمود قریشی کو 18 سو ووٹوں سے ہرا کر کامیابی حاصل کی ہے۔ جس پر شاہ محمود قریشی نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ میاں فیاض ربانی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور الیکشن کمیشن کو الیکشن سے قبل لیٹر لکھا تھا، جس میں انھوں نے 10نکاتی تجاویز دی تھیں جن پر الیکشن کمیشن نے کوئی عمل نہیں کیا۔
2 روز میں معاملہ حل نہ ہوا تو بہت خون خرابہ ہوگا، شیخ رشید

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئندہ 2 سے 3 روزمیں مسئلہ حل نہ کیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور ملک میں خانہ جنگی کا مقدمہ نواز شریف پر بنے گا۔ اسلام آباد میں پمز اسپتال میں زیر علاج تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انہیں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے گزشتہ روز کے بیان پر بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں۔ ملکی معاملات کے حوالے سے رواں ہفتہ بہت اہم ہے۔ طاہر القادری اور عمران خان اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اس معاملے کے حل کے لئے دو سے 3 روز ہیں اگر دوران مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو بہت خون خرابہ ہوگا اور ملک میں خانہ جنگی کا مقدمہ نواز شریف پر بنے گا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ وہیں لوگ ہیں جنہوں نے انتخابات کے بعد 2،2 وزارتیں، گورنری اور اعلیٰ عہدے حاصل کرکے کمیشن کمایا ہے۔ جسے بھی عوام کے ساتھ رہنا ہے اسے عمران خان یا ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ دینا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو عمران خان کی حمایت کرنی چاہیئے کیونکہ ان دونوں جماعتوں باہر نکلنے سے ہی مسئلہ حل ہوگا۔
Tuesday, August 26, 2014
لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کردی

لاہور: ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن کورٹ کے حکم کے تحت سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواست خارج کردی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری زبیر نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ پولیس ایڈیشنل سیشن کورٹ کے حکم کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج نہیں کررہی۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو مقدمے کے اندراج کا حکم جاری کرے، وکیل استغاثہ کی جانب سے درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فریق نہیں اس لئے اس درخواست کو مسترد کردیا جائے۔ عدالت عالیہ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد دخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اس درخواست سے متعلق ماتحت عدلیہ کا فیصلہ برقراررکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کی درخواست پر پولیس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
عوام کو مہنگائی کا جھٹکا، بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی


اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کی درخواست کی سماعت کی، اجلاس کے دوران نیپرا نے بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جولائی کےمہینےکی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے علاوہ ملک کے تمام صارفین پر ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 8 پیسے فی یونٹ کمی کی تھی۔
Monday, August 25, 2014
سیاسی بحران سے حصص مارکیٹ میں مندی، 352 پوائنٹس گرگئے
کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیاں دھرنا دینے والی سیاسی جماعتوں کی نئی دھمکیوں کے زیراثررہیں اورپیر کو بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی28800،28700 اور28600 کی 3 حدیں گرگئیں، 70.77 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 78 ارب 95 کروڑ 91 لاکھ 5 ہزار 537 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی وجہ سے بیشترشعبے غیرمتحرک ہوگئے ہیں جبکہ کچھ شعبے اپنے ہولڈ شدہ حصص فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسیاسی صورتحال سنبھل گئی تو مارکیٹ میں بہتری رونما ہوسکتی ہے کیونکہ لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن حالات بگڑنے کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر منگل کو سرکاری مالیاتی اداروں کی سپورٹ ہوئی تو کیپٹل مارکیٹ کو قدرے سہارا ملے گا۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 65 لاکھ 57 ہزار 508 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں تیزی رونما نہ ہوسکی کیوںکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 19 لاکھ 64 ہزار 709 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 2 لاکھ 2 ہزار 342 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے38 لاکھ 66 ہزار 699 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 5 لاکھ 23 ہزار 759 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا جس سے مارکیٹ تنزلی کی جانب گامزن رہی۔ نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 352.41 پوائنٹس کی کمی سے 28519.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 257.15 پوائنٹس کی کمی سے 19880.15 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 603.64 پوائنٹس کی کمی سے 46440.60 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 21.33 فیصد زائد رہااور مجموعی طور پر8 کروڑ25 لاکھ 22 ہزار 250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 308 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 71 کے بھاؤ میں اضافہ، 218 کے دام میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
سیاسی بحران سے حصص مارکیٹ میں مندی، 352 پوائنٹس گرگئے
کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیاں دھرنا دینے والی سیاسی جماعتوں کی نئی دھمکیوں کے زیراثررہیں اورپیر کو بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی28800،28700 اور28600 کی 3 حدیں گرگئیں، 70.77 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 78 ارب 95 کروڑ 91 لاکھ 5 ہزار 537 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی وجہ سے بیشترشعبے غیرمتحرک ہوگئے ہیں جبکہ کچھ شعبے اپنے ہولڈ شدہ حصص فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسیاسی صورتحال سنبھل گئی تو مارکیٹ میں بہتری رونما ہوسکتی ہے کیونکہ لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن حالات بگڑنے کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر منگل کو سرکاری مالیاتی اداروں کی سپورٹ ہوئی تو کیپٹل مارکیٹ کو قدرے سہارا ملے گا۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 65 لاکھ 57 ہزار 508 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں تیزی رونما نہ ہوسکی کیوںکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 19 لاکھ 64 ہزار 709 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 2 لاکھ 2 ہزار 342 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے38 لاکھ 66 ہزار 699 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 5 لاکھ 23 ہزار 759 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا جس سے مارکیٹ تنزلی کی جانب گامزن رہی۔ نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 352.41 پوائنٹس کی کمی سے 28519.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 257.15 پوائنٹس کی کمی سے 19880.15 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 603.64 پوائنٹس کی کمی سے 46440.60 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 21.33 فیصد زائد رہااور مجموعی طور پر8 کروڑ25 لاکھ 22 ہزار 250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 308 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 71 کے بھاؤ میں اضافہ، 218 کے دام میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
دھرنوں کے براہ راست نقصان 800 ارب تک پہنچ گئے، خرم دستگیر

لاہور: وفاقی وزیر تجارت انجنئیرخرم دستگیر خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 800 ارب روپے کا براہ راست نقصان ہو چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سیاسی عدم استحکام پاکستان کا معاشی مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت گرنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں تقریباً 350 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 450 ارب روپے ڈوب چکے ہیں، سیاسی بے چینی کی وجہ سے چین اور سری لنکا کے صدور نے اپنے انتہائی اہم دورے منسوخ کردیے ہیں جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے متعدد منصوبے تاخیر کا شکارہو سکتے ہیں جبکہ اس منفی سیاست کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بلاواسطہ نقصانات سیکٹروں ارب کے ہیں جن سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دھرنا دینے والے ہوس اقتدار میں پاکستان کی آنے والی نسلوں کے معاشی مسقبل کے ساتھ گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، یہ موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ ملک کے بڑے کاروباری مراکز میں حالات پر امن ہیں اور انشااللہ یہ امن قائم رکھا جائے گا، وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق حکومت کی ترجیحات آج بھی توانائی کے بحران سے نمٹنا، انتہا پسندی سے لڑنا اور معیشت کی فی الفور بحالی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پر عزم ہے کہ ان مقاصد کے حصول میں آنے والی رکاوٹوں کو جلد دور کر دیا جائیگا اور روشن پاکستان کے خواب کو حقیقت بنا کر پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کریں گے۔
پاکستان مزید خبریں کیمروں اور کنٹرول سینٹر سے منسلک 100 موبائلیں پولیس کو فراہم بلدیہ عظمیٰ کی 36 سی این جی بسیں 2 ستمبر کو سڑکوں پر آئینگی، کرایہ 25 روپے مقرر عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چوری کرنے میں سابق چیف جسٹس کا سب سے بڑا ہاتھ تھا ، عمران خان حکمرانوں کو 48 گھنٹے دیتا ہوں ورنہ کفن میں پہنوں گا یا پھرنوازشریف کا اقتدار، طاہرالقادری عمران خان نے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے ہتک عزت کے دعویٰ کا جواب دیدیا Pages: 1 2 … 9,271 تازہ ترین سلائیڈ شوز ایکسپریس ایجوکیشن ایکسپو کی تصویری جھلکیاں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ نے ریڈ زون میں پڑاؤ ڈال لیا آزادی اور انقلاب مارچ کی تصویری جھلکیاں خالد ملٹری ایئربیس پر دہشتگردوں کا منظم حملہ ناکام حکمرانوں کو 48 گھنٹے دیتا ہوں ورنہ کفن میں پہنوں گا یا پھرنوازشریف کا اقتدار، طاہرالقادری

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے حکومت کو ایک بار پھر 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہےکہ ڈیڈ لائن گزرنے سے پہلے نظام لپیٹ کر اسمبلیاں ختم کردی جائیں ورنہ پھر دما دم مست قلندر ہوگا جبکہ شہادت کے لیے یا تو کفن میں پہنوں گا یا پھر نوازشریف کا اقتدار کفن پہنے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ انقلاب مارچ کے شرکا کا عزم و حوصلہ قابل قدر ہے،اس بات پر کسی کو اختلاف نہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس مقام پر عوام کا سمندر کسی نے نہیں دیکھا اور یہ سمندر 12 دن تک صبر کا عظیم نمونہ پیش کرکے بیٹھا رہا، ملکی تاریخ میں انقلاب مارچ کے دھرنے جیسی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے دھرنے کو انقلاب میں بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس انقلاب کی ابتدا ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے خون سے ہوئی اور یہ سب کچھ عوام کے صبر برداشت اور قربانیوں کے باعث ممکن ہوا کہ ہم آج اس مقام پر آگئے ہیں۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ بہت دیر قوم کے بیٹے بیٹیوں کو دھوپ میں نہیں جلا سکتا اور مزید پریشانیوں میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا،اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے سینوں میں دل نہیں، ان کے ضمیروں میں غیرت نہیں، انہیں قوم کے بیٹے بیٹیوں کے مصائب کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کنٹینر لگا کر پورے پاکستان کو سیل نہ کیا جاتا تو آج پنڈی اور اسلام آباد کی حدود میں عوام کو سمونے کی طاقت نہ ہوتی،جگہ جگہ کنٹینر لگائے گئے اور ہمارے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود عوام کا سمندر امڈ آیا، عوام غریبوں اور ناانصافیوں کے مارے لوگوں کی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں،ملکی تاریخ میں کسی نے اتنا طویل دھرنا نہیں دیا لیکن حکمران اس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئے جبکہ مذاکرات بھی صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کیے گئے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ حکمرانوں کے نزدیک غریبوں کے سمندر کی کوئی اہمیت نہیں، یہ غریب عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں،حکمران سمجھتے تھے کہ دھرنے کے شرکا تھک ہار کر گھروں کو چلےجائیں گے لیکن جب تک میں یہاں بیٹھا ہوں کوئی بھی واپس نہیں جائے گا۔ طاہرالقادری نے کہا کہ موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کو روز اول سے ہی ناجائز،غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتے ہیں،الیکشن کمیشن خود غیر آئینی تھا، اسے آئین کی خلاف ورزی کے تحت سیاسی مک مکا کرکے بنایا گیا جس کے خلاف سپریم کورٹ سمیت کسی سیاسی جماعت نے بھی بولنے کی جرات نہیں کی،سپریم کورٹ میں ایک شخص سیاسی نمائندہ بنے بیٹھا تھا جسے رائے ونڈ کے احکامات تھے جس پر وہ آئین کی طرف نہیں بلکہ کہیں اور چل پڑا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ غیر آئینی الیکشن کمیشن کے تحت ہونے والے انتخابات غیر آئینی اور دھاندلی شدہ تھے اور جب الیکشن غیر آئینی تھے تو اسمبلیاں،حکومتیں،وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ سمیت تمام وزرا بھی غیر آئینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو بھی متنبہ کیا تھا کہ 11 مئی کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر روئیں گے جس کو اب عمران خان نے بھی تسلیم کیا جبکہ اب سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن افضل خان نے بھی الیکشن کے دھاندلی شدہ ہونے کا اعلان کرکے ہمارے سچ کی تصدیق کردی ہے جس کے بعد اسمبلیوں اور حکومتوں کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہ گئی، اب عمران خان سے کہتا ہوں کہ دھاندلیوں کی تحقیقات کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کرپٹ الیکشن کمیشن کے نمائندے نے خود پردہ اٹھا کربھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور تمام وزرا میری ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے اسمبلیاں توڑ دیں اور ایوانوں سے نکل جائیں کیونکہ اب یہاں بیٹھنے کا آئینی و قانونی تو دورکوئی اخلاقی جواز بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیڈ لائن پوری ہونے سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائے،جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس میں آزاد ممبران کے اختلافی نوٹ کو بھی عام کیا جائے تاکہ عوام کو پتا چلے کہ کمیشن اور جے آئی ٹی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کیا لکھا ہے، ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کاٹ کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت تمام نامزد افراد کو گرفتار کیا جائے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ اس ملک میں اب غریب اور مظلوم کے لیے کوئی حق نہیں ہے،دو ماہ بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر تک درج نہ ہوسکی،عدالتیں اور قانون طاقتور حکمرانوں کے سامنے بے بس ہیں،عوام کے پاس اب کفن اور دفن ہونے کے سوا کوئی حق نہیں ،کوئی ادارہ بھی مظلوموں کی آواز سننے والا نہیں، اس لیے میں نے آج شہادت کی نیت کرلی ہے اگر یہاں تڑپ تڑپ کرمرنا ہے تو شہید ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے قائد اعظم کے خواب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،جن کے لیے ملک بنایا گیا تھا ان کے پاس سوائے دفن ہونے کے کچھ نہیں بچا،ملک کا قانون،آئین اور جمہوریت کمزوروں کیلئے نہیں بلکہ طاقتوروں کے لیے ہے یہ جنگ ہم آخری وقت تک لڑیں گے اب صرف دو امکان ہیں یا تو میں کفن پہنوں گا یا پھر نوازشریف کا اقتدار کفن پہنے گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ جب یہ نظام کفن پہنے گا تو غریب سرخرو ہوگا،اگر یہ اقتدار بچ گیا تو میں کفن پہنوں گا اور یہاں شہدا کا قبرستان بنے گا،نوازشریف سمیت سارے نظام کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتا ہوں اس نظام کا بستر لپیٹ کر حکومتیں ختم کرکے گھروں کو چلے جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہوگا اور ڈیڈ لائن کے بعد کسی چیز کی ذمہ داری میری نہیں ہوگی کیونکہ اب انقلاب آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اس لیے عوام گھروں میں بیٹھ کر ظلم کا ساتھ نہ دیں بلکہ نظام کے خاتمے کے لیے انقلاب مارچ میں شریک ہوجائیں، حکمرانوں سے ٹکرانے والا انسان روز پیدا نہیں ہوتا،میں شہید ہوجاؤں گا لیکن عوام کی نسلیں ظلم کے نظام میں پستی رہیں گی۔
Sunday, August 24, 2014
BREAKING NEWS
BREAKING NEWS: Additional Secretary Election Commission Mr. Afzal Khan today reveals that there was massive corruption and rigging in the 2013 general elections. He alleges that the Chief Justice interfered in the process of free and fair elections to result in the present regimes illegitimate rule! Please pray for his well-being as he has stood with the truth while putting his life and that of his family on the line. We have all seen what the PML(n) is capable of in Lahore and we wish Mr. Afzal Khan the best of health! Beshak Allah sach aur haq walon k saath hai .....
مضاربہ اسکینڈل میں رقوم کی جلدوصولی کاحکم

اسلام آباد: چیئرمین قومی احتساب بیورو قمر زمان چوہدری نے مضاربہ اسکینڈل میں لوٹی گئی رقوم کی وصولی میں خاص پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہارکیا ہے۔ قمر زمان چوہدری نے جمعرات کو نیب راولپنڈی کے دورے کے موقع پر افسران کو حکم دیا کہ لوٹی گئی رقوم کو وصول کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں۔ نیب ذرائع کے مطابق چیئرمین نے مضاربہ اسکینڈل میں عوام کے اربوں روپے لوٹنے والوں کوگرفتار اور ان سے رقوم کی ریکوری کے لیے متعدد بار نیب راولپنڈی کو احکام جاری کیے اور نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاسوں میں اس پر ہونے والی پیشرفت کو تیز کرنے اوراربوں روپے کی ریکوری کو جلد ممکن بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔ چیرمین قومی احتساب بیورو نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کی ضبط کی گئی جائیدادوں سے متاثرین کو ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ریکوری کا عمل تیز کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی نیب نے مضاربہ سے متعلق ملزمان کی گرفتاری، بیرون ملک ملزمان کو واپس لانے کے اقدام اور ریفرنس عدالتوں میں دائرکرنے سے متعلق بریفنگ دی۔
نیا افغان صدر 2 ستمبر کو حلف اٹھائے گا، حامد کرزئی

کابل: حامد کرزئی نے کہا کہ ملک کے نئے افغان صدر 2 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے اور اس سلسلے میں حکومت کے انتظامات مکمل ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادار ےکے مطابق افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2 ستمبر کو نئے افغان صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لئے انتظامات مکمل ہیں، حلف برداری کی تقریب کی تاریخ تبدیل نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ افغان میں 5 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ملک کے نئے صدر کو 2 اگست کو حلف اٹھانا تھا لیکن صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے باعث گزشتہ 2 ماہ سے نیا افغان صدر حلف نہیں اٹھا سکا ہے۔
عمران خان نے شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو ضرور جاؤں گا،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق

لاہور: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کہتے ہیں کہ اگر عمران خان نے انہیں اپنی شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو اس کے لئے تیار ہیں۔ لاہور میں امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے اسپیکرقومی اسمبلی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دھرنوں سےمتعلق پیدا ہونے والی صورت حال اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے استعفوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے اپنے استعفے جمع کرایئے ہیں اگر یہ استعفے منظور ہوگئے تو اس سے قومی بحران میں اضافہ ہوجائے گا۔ دونوں فریقین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، دونوں جمہوریت اور عوام کی بھلائی بات کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دونوں کو باعزت راستے میں داخل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ملک کے 18 کروڑ عوان کے علاوہ دوست ممالک کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان میں جاری بحران ختم ہوجائے۔ ان کی دونوں فریقوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی انا کے خول سے باہر آکر باعزت راستے کی تلاش کریں۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کے استفعوں کی منظوری کا معاملہ چند ضروری معاملات کا متقاضی ہوتا ہے جس میں چند روز لگ جاتے ہیں تاہم امیر جماعت اسلامی نے ان سے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے کا معاملے میں تاخیر کرنے کی درخواست کی۔ اس معاملے میں وہ جس قدر ہوسکتا ہے کریں گے، انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد سراج الحق اور دیگر ساتھیوں سے امید ہے کہ جلد از جلد اس معاملے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئےگا۔ عمران خان کی شادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو وہ ضرور جائیں گے جبکہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ نفرت کے ماحول میں شادی کی بات کرنابہت مثبت اشارہ ہے۔
نجم سیٹھی پی سی بی میں پھر سے جان پکڑنے لگے
لاہور: نجم سیٹھی پی سی بی میں پھر سے جان پکڑنے لگے، سابقہ مینجمنٹ کمیٹی چیف کواس مرتبہ ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرمین شپ مل گئی ہے۔ نو منتخب چیئرمین شہر یار خان کی زائد العمری کے باعث آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دور دراز کے ممالک کا سفر کرنے سے گریز کے فیصلے پر نجم سیٹھی کی آئی سی سی میٹنگز میں شرکت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ نجم سیٹھی کو پی سی بی ایگزیکٹیو کمیٹی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ گذشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں گورننگ بورڈ اجلاس کے دوران کیا گیا، نومنتخب چیئرمین شہریارخان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شکیل شیخ (اسلام آباد)، گل زادہ (پشاور)، پروفیسر اعجاز فاروقی (کراچی)، اقبال قاسم (نیشنل بینک)، امجد لطیف ( سوئی نادرن گیس)، یوسف نسیم کھوکھر (واپڈا) اور چوہدری اعجاز (فیڈرل سیکریٹری آئی پی سی ) نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد ، چیف فنانشل آفیسر بدر ایم خان، سلمان نصیر (سیکریٹری بورڈ آف گورنر) نے شرکت کی۔ یونائیٹڈ بینک کے منصورمسعود خان بیرون ملک ہونے کی وجہ سے میٹنگ کا حصہ نہیں بن سکے، انگلینڈ سے آڈیو لنک کے ذریعے ان سے مشاورت کی گئی۔ گورننگ بورڈ نے اتفاق رائے سے نجم سیٹھی کو ایگزیکٹیو بورڈ کا چیئرمین بنانے کی منظوری دی، کمیٹی میں سبحان احمد اور بدر ایم خان بھی شامل ہیں۔ ارکان نے پی سی بی کے 2014-15 بجٹ کی منظوری بھی دی جس کے بعد شرکا کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف کرکٹ سیریز کے میڈیا رائٹس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
70ہزارغیرملکیوں کا بائیو میٹرک ریکارڈ سسٹم میں شامل کر لیا، چیئرمین نادرا

راچی: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) نے 21اگست تک تقریباً 70 ہزار غیرملکیوں کا بائیومیٹرک ریکارڈ اپنے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں شامل کرلیا ہے جبکہ سابقہ اتھارٹی نارا کے پاس پہلے سے رجسٹرڈ پرانے ریکارڈ کی اسکیننگ کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نادرا محمد امتیاز تاجور نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا انھوں نے کہا کہ غیرملکیوں کی رجسٹریشن کیلیے ہر ممکن اقدام کیے جارہے ہیں جب کہ تمام وسائل اور تعاون ترجیحی بنیادوں پر مہیا کیے جارہے ہیں۔ نارا کے سابق ملازمین کا بائیومیٹرک ریکارڈ بھی نادرا نے تصدیق کے لیے مکمل کرلیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیرملکیوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کیلیے تمام تر ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ موبائل رجسٹریشن وینز (ایم آر ویز) غیر ملکی پاکستانیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کیلیے کراچی فشریز پر کام کررہی ہیں۔ اسی طرح مدارس کے ساتھ بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی طلبا کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کی جا سکے۔ چیرمین نادرا نے بتایا کہ 342 نئے غیرملکیوں کا ریکارڈ بھی بائیومیٹرک سسٹم میں شامل کیا گیا اور انھیں جلد ہی بائیومیٹرک خصوصیات کا حامل کمپیوٹرائزڈ کارڈ جاری کردیا جائے گا۔ اسی طرح کراچی کے مختلف زونل آفسز پر مینوئل کی تجدید؍ فریش رجسٹریشن کے ضمن میں ڈھائی ہزار غیرملکیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔ کورنگی فش ہاربر اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کارڈی نیشن سینٹر(جے ایم آئی سی سی) سے تعاون بھی کیا جارہا ہے تاکہ ماہی گیری پر جانے والے غیرملکی پاکستانیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کی جاسکے۔ ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ بریگیڈیئر (ر) زاہد حسین نے مزید کہا کہ منیجنگ ڈائریکٹر سائٹ کے ساتھ مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے سندھ میں موجود غیر ملکیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کیلیے ایک ملاقات بھی ہوئی ہے اور اس حوالے سے ایک اور اجلاس نادرا، ایم ڈی سائٹ اور سائٹ ایسوسی ایشن کے درمیان جلد ہوگا جس میں رجسٹریشن کے لیے طریقہ کار اور دیگر امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔ محمد امتیاز تاجورنے مزید کہا کہ بائیو میٹرک رجسٹریشن آفس کے انتظام کے لیے کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے ساتھ اشتراک کار بھی عمل میں آچکا ہے جہاں غیرملکی ماہی گیروں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سیکریٹری وزارت داخلہ حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے بھی مختلف امور پر تعاون طلب کیا گیا ہے ۔
نیا پاکستان اس لئے جلد بنانا چاہتا ہوں تاکہ شادی کرلوں، عمران خان
اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ علی بابا چالیس چور کہنے والے جمہوریت کے 2 غازی آج اکٹھے ہوگئے جب تک وزیراعظم نواز شریف استعفی نہ دے دیں اس وقت تک اسلام آباد میں دھرنا جاری رہے گا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کو صرف ایک ماہ کے لئے اقتدار سے علیحدگی کی آفر کی تاکہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے کمیشن تحقیقات کا آغاز کردے، اگر جوڈیشل کمیشن ثابت کر دے کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تو نواز شریف کو بطور وزیراعظم قبول کرلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع ہوگئی ہے عوام بجلی کے بل، ٹیکس، ٹول ٹیکس اس وقت تک نہ دیں جب تک وزیراعظم مستعفی نہ ہوجائیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی بینک کے ذریعے پیسے نہ بھیجیں، خوشی ہے کہ اب اس قوم پر کوئی کسی قسم کی ناانصافی نہیں کرسکتا اور کوئی اپنا غلام نہیں بنا سکتا۔ چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جتنی بہتر جمہوریت ہوتی ہے اتنی ہی بہتر حکومت ہوتی ہے،ملک میں رائج موجودہ جمہوریت اور حسنی مبارک کی جمہوریت میں کوئی فرق نہیں، حسنی مبارک اور اس کا خاندان امیر تھا اسی طرح یہاں حکمران امیر اور عوام غریب ہیں۔ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ میں بنی تھی پاکستان میں بھی انصاف کا نظام لانا تھا لیکن چھوٹے سے طبقے نے جمہوریت پر قبضہ کیا اور ملکی خزانہ باہر لے گئے، ہندوستان کے کسان کو سستی بجلی، پانی اور کھاد ملتی ہے لیکن ملک میں شریف بادشاہوں کو کسانوں کی کوئی فکر نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آج قوم جاگ چکی ہے، اللہ تعالی نے قوم میں شعور پیدا کردیا اور نوجوان اور گھروں میں بیٹھی خواتین بھی سیاسی عمل کا حصہ بن چکی ہیں، سارا پاکستان شعور رکھتا ہے کہ کون جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جمہوریٹ کی آڑ میں پیسا بنانا چاہتا ہے، خوشی ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنان بھی دھرنے میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ شعور رکھنے والے کراچی کے عوام ہیں اور عنقریب کراچی بھی جاؤں گا جبکہ شریف بادشاہت کا بندوبست کرنے کے بعد کوئٹہ میں بھی جلسے کروں گا ۔
Tuesday, August 19, 2014
مسلم لیگ ن کے رہنماءحنیف عباسی اہل خانہ سمیت لندن چلے گئے: نجی ٹی وی کا دعویٰ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماءاور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو پراجیکٹ کے چیئرمین حنیف عباسی کے اہل خانہ سمیت لندن چلے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ حنیف عباسی اتوار کے روز اہل خانہ سمیت لندن چلے گئے جبکہ وہ اپنے ساتھ کافی زیادہ سامان بھی لے کر گئے ہیں۔ جب ان سے جانے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کے داخلے کا مسئلہ ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حنیف عباسی نہ صرف راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کے چیئرمین ہیں بلکہ ان پر ایفی ڈرین کے بدنام زمانہ سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دے رکھا ہے جبکہ چیئرمین عمران خان آج شام چھ بجے ریڈ زون کی جانب مارچ کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
سانحہ لاہور کا مقدمہ درج نہ ہوسکا، نواز اور شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

لاہور: وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، وزرا اور پولیس افسروں کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج نہ ہوسکا۔ پاکستان عوامی تحریک کے وکلا عدالتی حکم نامہ لے کر پیر کے روز تھانہ فیصل ٹائون گئے تاہم ایس ایچ اوشریف سندھو موجود نہ تھے،عملے نے بتایا کہ وہ سی سی پی او آفس گئے ہوئے ہیں، وکلا 2گھنٹے تک تھانے میں موجود رہے تاہم کوئی ذمے دار افسر تھانے نہیں پہنچا۔ وہ مقدمہ درج کرنے پر اصرار کرتے رہے، اس دوران ان کی محرر سے تلخ کلامی بھی ہوئی، بعدازاں پولیس نے وکلا کی درخواست وصول کرلی۔ میڈیا سے گفتگو میں منصورآفریدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس عدالتی حکم پر بھی ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ایس ایچ او نے کہا ہے کہ درخواست میں اعلیٰ شخصیات کے نام ہیں وہ افسران کے احکام کے بغیرکوئی اقدام نہیں کر سکتا،مقدمہ درج نہ کیا گیا تو قانونی چارہ جوئی کریں گے ۔ادھر جوڈیشل ٹریبونل کی کارروائی منظر عام پر لانے کیلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی گئی، زبیر احمد نامی شہری نے موقف اختیار کیا کہ کارروائی کوسردخانے میں ڈال کر اصل حقائق کوچھپایا جارہا ہے۔ ادھر وزیراعظم نوازشریف، شہباز شریف، رانا ثنااللہ، چوہدری نثار، رانا مشہود اور مریم نوازسمیت اہم شخصیات کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی گئی۔ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیارکیا کہ سیشن کورٹ کے حکم کے بعد خدشہ ہے کہ یہ افراد بیرون ملک فرار ہوجائیں گے جبکہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا مارچ روکنے کے متعلق کیس میںفیصلے پر بھی نظر ثانی کی جائے۔
ریڈ زون میں ریڈ الرٹ، سرکاری عمارتوں پر شارپ شوٹر تعینات، لاہور پولیس کے 1500 اہلکار بھی پہنچ گئے

اسلام آباد / لاہور: وزارت داخلہ نے پولیس کو ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے ریڈزون میں تمام سرکاری عمارتوں پر شارپ شوٹر تعینات کردیے گئے۔ تحریک انصاف کے دھرنا کے شرکا کے ریڈزون میں داخلے کے ممکنہ اقدام کے پیش نظر وزارت داخلہ نے پولیس کو ریڈ الرٹ جاری کیا ہے ۔ ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلیے 3 حصار بنانے کی ہدایت کردی گئی۔ پہلے حصار میں وفاق اور پنجاب پولیس، دوسرے حصار میں ایف سی اوررینجرز اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ تیسرے حصار میں سیکیورٹی کی ذمے داری فوج کوسونپ دی گئی ہے۔ لاہور پولیس کے 1500 اہلکار بھی گزشتہ روز اسلام آباد روانہ ہوگئے جن میں اینٹی رائیڈ دستے بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زون کی سیکیورٹی کے پیش نظر لاہور پولیس کے اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔ دریں اثناء انقلاب اور آزادی دھرنوں کی وجہ سے بیشتر ممالک کے سفارتخانوں میں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔
اسمبلی اراکین مستعفی ہوئے تو ضمنی الیکشن ہوں گے، الیکشن کمیشن

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے بیلٹ پیپرز اردو بازار سے چھپوانے کی تردید کردی۔ ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن شیرافگن اور صوبائی الیکشن کمشنر انور محبوب نے میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیلٹ پیپرز کا تمام ریکارڈ موجود ہے جو کسی بھی مجاز اتھارٹی کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان الزامات کی تحقیقات کرے۔ 11 مئی 2013 کے انتخابات میں بیلٹ پیپرز کی چھپائی انتہائی سیکیورٹی میں کی گئی تھی جس کی نگرانی فوج کے کرنل رینک کے افسر کررہے تھے۔ بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کارپویشن آف پاکستا ن اور سیکیورٹی پرنٹنگ آف پاکستان سے چھپوائے گئے تھے۔
وزیراعظم نواز شریف کی ریڈ زون میں مظاہرین کے داخلے کو طاقت کے استعمال سے روکنے کی مخالفت
اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں ریڈ زون میں داخل ہونے والوں کو طاقت کے استعمال سے روکنے کی مخالفت کر دی ہے۔ ایکسپریس نیوز اسلام آباد کے کے بیورو چیف عامر الیاس رانا کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے پرامن طریقے سے ریڈ زون میں داخل ہونے والوں کے خلاف کسی قسم کی طاقت کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ ریڈ زون میں داخل ہونے والوں پر کسی صورت گولی نہ چلائی جائے اور نہ ہی ان پر لاٹھی چارچ یا آنسو گیس پھینکے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ مظاہرین ریڈ زون میں جہاں بیٹھنا چاہیں بیٹھ جائیں تاہم ڈپلومیٹک انکلیو اور اہم تنصیبات کی عمارتوں کی جانب پیش قدمی سے گریز کیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا تھا کہ ہم پر امن طریقے سے ریڈ زون کی جانب بڑھیں گے اور ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا تھا منگل کو شام 5 بجے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی کی جائے گی اور اگر کسی نے ہمارے کارکنوں پر گولی چلانے کی کوشش کی تو پھر عوام کے سمندر کو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔
لانگ مارچ پاکستان کوانتشارکی طرف لے جارہاہے،عالمی میڈیا

لندن / اسلام آباد: عالمی میڈیانے عمران خان کے لانگ مارچ کوپاکستان کے لیے مشکل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ ملک کوانتشار کی طرف لے جارہا ہے۔ برطانوی اخبارڈیلی میل نے مارچ کے حوالے سے کہاہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارکسی رہنمانے اپنے کارکنوں کو یوٹیلٹی اوردیگر بل اداکرنے سے منع کیاہے۔ عمران خان نے اپنے دھرنے کی ناکامی کو میڈیا اورسیاسی تجزیہ کاروں سے چھپانے کیلیے سول نافرمانی کی تحریک کااعلان کیاہے۔ بی بی سی نے کہاہے کہ عمران خان کے سول نافرمانی تحریک کے اعلان کے بعداور ان کی تقریرشروع ہونے سے پہلے کے مناظریکسربدل گئے۔ تقریر سے پہلے لوگوں کا گروہ اسٹیج کی طرف بڑھ رہاتھا جواعلان کے بعدواپسی کیلیے مڑگیا، وہ سول نافرمانی کے اعلان سے متفق نہ تھے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکے مطابق طاہرالقادری اورعمران خان کے مارچ نے پاکستان کے دارالحکومت میں نظام زندگی مفلوج کردیا ہے۔ شہری پوچھ رہے ہیں کہ انھیں کس بات کی سزادی جارہی ہے، ایک اوراخبار نے لکھاہے کہ پہلے سے معاشی مسائل کا شکار ملک پاکستان میں سول نافرمانی تحریک کے اعلان کے بعدمزید انتشارکا خطرہ پیداہوگیاہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین نے لکھاہے کہ2رہنما اسلام آباد میں10لاکھ لوگ تونہ لاسکے تاہم پولیس کے آنے سے اسلام آبادمیں نظام زندگی مفلوج ہوگیا ہے۔ بھارتی اخبارانڈیا ٹائمزکا کہناتھا کہ پاکستان میں پہلے ہی دہشت گردحملے ہو رہے ہیں اور لانگ مارچ کے بعدپاکستان مزید انتشارکا شکار ہوگا۔
آزادی مارچ آج شاہراہ دستور کی طرف جائے گا، عمران خان کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہمارا پرامن مارچ شاہراہ دستور کی طرف جائے گا اور اس مارچ کی قیادت وہ خود کریں گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اپنے پیغام میں تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کا آزادی مارچ مکمل طور پر آئینی اور جمہوری ہے۔ آج کا دن ملک کے لئے بہت اہم ہے، آج ہمارا پرامن مارچ شاہراہ دستور کی طرف جائے گا اور اس مارچ کی قیادت وہ خود کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ خود ریڈزون جائیں گے اور کارکنان پر امن طریقے سے ان کے ساتھ چلیں گے، اسلام آباد پولیس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ہم پر گولی چلائے گی یا نہیں اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی پولیس ہم پر گولی نہیں چلائے گی جبکہ گلو بٹوں کو پیغام دیتے ہیں کہ اگر ہتھیار اٹھائے تو انہیں دنیا میں چھپنے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔
سول نافرمانی: وفاق کو ٹیکسوں کی مد میں 4 کھرب کا نقصان ہوگا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی سول نافرمانی کی تحریک پر عملدرآمد کی صورت میں وفاق کو ٹیکسوں و دیگر محاصل کی مد میں4 کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہوگا تاہم خیبرپختونخواحکومت بھی وفاق سے ملنے والے 3 کھرب روپے مالیت کے لگ بھگ فنڈز سے محروم ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کرکے وفاق کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کوبھی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت قومی محاصل میں حصہ کے طور پروفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران خیبرپختونخواحکومت کو 283.7 ارب روپے اداکرنا ہیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے دوران 2013-14 قومی محاصل میں خیبرپختونخواکاحصہ 235.04 ارب روپے تھا۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخواحکومت نے رواں مالی سال کے دوران وفاق کو قرضوں اور سود کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 17 لاکھ 40 ہزار روپے اداکرناہیں جس میں سے 70 کروڑ 46 لاکھ 64 ہزار روپے جبکہ 4 ارب 88کروڑ 70 لاکھ روپے غیر ملکی قرضے کی صورت میں اداکرناہیں اس کے علاوہ وفاقی حکومت کو خیبر پختونخواسے ٹیکسوں کی مد میں بھی 3 کھرب روپے کے لگ بھگ آمدنی حاصل ہوتی ہے اگر حقیقت میں سول نافرمانی پر عملدرآمد ہوجاتاہے اور خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے وفاق کو ٹیکس اور دیگر ادائیگیاں نہیں کی جاتیں تو اس سے وفاق کو بھاری نقصان ہوگا۔
Friday, August 15, 2014
پاکستان میں عوامی اجتماع کے حق کی حمایت کرتے ہیں، امریکا
برطانیہ مستحکم اور مضبوط جمہوریت قائم کرنے کے لیے پاکستانی عوام اور اداروں کی کوششوں میں ان کے ساتھ ہے، یوم آزادی پربرطانوی ہائی کمشنر کا پیغام. فوٹو: فائل واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان میں عوامی اجتماع کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہارف نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والی سویلین حکومت کی بھرپور حمایت کرتا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی وہ عوام کے اجتماع کے حق کا بھی احترام کرتا ہے۔ میری ہارف نے کہا کہ امریکا نے بھارتی وزیراعظم کے بیانات کا جائزہ لیا ہے اور ہم ماضی کی طرح پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ دریں اثنا برطانیہ نے مستحکم اور مضبوط جمہوریت قائم کرنے کے لیے پاکستانی عوام اور اداروں کی کوششوں میں ان کا ساتھ دینے کا یقین دلایا ہے۔ جمعرات کو برطانوی ہائی کمشنر نے یوم آزادی پر اپنے پیغام میں کہا کہ برطانیہ مستحکم اور مضبوط جمہوریت قائم کرنے کے لیے پاکستانی عوام اور اداروں کی کوششوں میں ان کے ساتھ ہے۔
وفاق نے آزادی اور انقلاب مارچ کی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی بنالی
صورت حال سے نمٹنے کے لیے طویل مشاورت کے بعد حکومت نے 3 آپشنز پر مشتمل حکمت عملی مرتب کرلی ہے، ذرائع فوٹو؛فائل کراچی: تحریک انصاف کے آزادی مارچ اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہاں پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے طویل مشاورت کے بعد حکومت نے 3 آپشنز پر مشتمل حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ یہ حکمت عملی جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے اہم رہنماؤں سے تفصیلی رابطوں کے بعد مرتب کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملات کو حل کرانے کے لیے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ ،اعتزاز احسن ،گورنر پنجاب چوہدری سرور، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ،حکومت کے سیاسی رابطہ کار اور انتہائی بااثر مذاکراتی نمائندے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب دونوں جماعتوں کے شرکا دھرنا دینے کا آغاز کریں گے اور ان کے مطالبات سامنے آجائیں گے تو پھر ان آپشنز کا استعمال کیا جائے گا ،یہ جماعتیں جتنے دن دھرنایاپرامن احتجاج کریں گی، حکومت رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
آزادی مارچ پر حملے سے ملک میں خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا، شیخ رشید
ہم پر پتھر برسائے گئے اور ہمارے کنٹینر کی تاریں کاٹ دی گئیں، شیخ رشید۔ فوٹو فائل گوجرانوالہ: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ پر پولیس کی موجودگی میں حملے ملک میں خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا ہے، اب فوج کو مداخلت کرنی ہی پڑے گی۔ ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جب ہمارا قافلہ گجرانوالہ میں شریف پورہ سے گزر رہا تھا کہ قافلے کی سیکیورٹی پر تعینات ایلیٹ فورس کی ڈیوٹیاں تبدیل کر دی گئیں، ابھی میں عمران خان کو اس خطرے کے بارے میں آگاہ ہی کر رہا تھا کہ اچانک ہم پر حملہ ہو گیا، ہم پر پتھر برسائے گئے اور ہمارے کنٹینر کی تاریں کاٹ دی گئیں، ہمارے کارکنوں کو زخمی کر دیا گیا، ہم پر وقفے وقفے سے 4 بار حملہ کیا گیا اور ہماری 3 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جب کہ متعدد گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی قسم کی سیکیورٹی کی درخواست نہیں کرتے کیونکہ یہ سب کچھ حکومت کے کہنے پر ہی ہو رہا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ پہلے تو مجھے شک تھا کہ کہیں یہ قربانی کا بکرا بھاگ نہ جائے لیکن اب یقین ہو چکا ہے کہ یہ قربانی ہر حال میں ہو کر رہے گی، یہ کھلی لاقانونیت ہے، حکومت کی نالائقی اور نا اہلی انھیں مروائے گی۔ انھوں نے کہا کہ آزادی مارچ پر حملے سے ملک میں خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا ہے، یہ خانہ جنگی کا عمل حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ کر کے رہے گا اور اب فوج کو مداخلت کرنی ہر پڑے گی۔
عدلیہ کو سیاسی معاملات میں فیصلے سنانے سے گریز کرنا چاہئے، پرویز الہیٰ
گوجرانوالہ میں آزادی مارچ کے شرکا اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں تصادم، کئی افراد زخمی
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے نعرے بازی کی پھر ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کردیا فوٹو: ایکسپریس نیوز گوجرانوالہ: مسلم لیگ (ن) اور آزادی مارچ میں شامل تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ گوجرانوالہ کے علاقے شیرانوالہ پل کے قریب مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خالد بٹ کے دفتر کے سامنے آزادی مارچ کے شرکا نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو دیکھ کر نعرے بازی کی جس پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بھی نعرے بازی شروع کردی ، جیسے ہی عمران خان کا کنٹینر وہاں سے گزرا دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کردیا۔ جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے، زخمیوں میں معروف پاپ گلوکار سلمان احمد اور تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی بھی شامل ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے اپنے کارکنوں کو قابو میں کیا جس کے بعد مارچ کے شرکا آگے بڑھ گئے۔تاہم شاہین آباد روڈ پر دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے پر پتھراؤ کردیا۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے عمران خان کے کنٹینر کو گھیرے میں لے لیا ۔
ریاستی ادارے اور اہل کار آئین کے مطابق کام کریں، سپریم کورٹ
اگر کوئی غیر قانونی اقدام اٹھایا گیا تو اسے آئین سے غداری تصور کیا جائے گا، سپریم کورٹ فوٹو: فائل اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ملک کے تمام ادارے اور اہلکار آئین کے تحت کام کریں اور کوئی غیر آئینی اقدام نہ اٹھائیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ کی درخواست کی سماعت کی، سماعت کے آغاز پر کامران مرتضیٰ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ملکی صورت حال میں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آئین کے تحت عوام کو دیئے گئے بنیادی حقوق معطل ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی غیر آئینی اقدام ہوسکتا ہے اور اس سلسلے میں قومی اسمبلی نے قرارداد بھی منظور کی ہے۔ کامران مرتضیٰ کے دلائل کے جواب میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات کو غیر آئینی قراردے چکی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں اربوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، آرٹیکل 9 اور 13 بھی بنیادی حقوق ہیں جو دھرنوں کی وجہ سے معطل ہوسکتے ہیں، جسٹس اصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں کہیں ایک مرتبہ پھر 3 نومبر کا اقدام نہ ہو اور سنگین غداری ہونے سے روکا جائے۔ ابتدائی سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے اپنے عبوری فیصلے میں کہا کہ تمام ادارے اور اہلکار آئین کے تحت کام کریں اور کوئی غیر آئینی اقدام نہ اٹھائیں۔ اگر کوئی غیر آئینی واقدام اٹھایا گیا تو اسے آئین سے غداری تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں عدالت عظمیٰ 31 جولائی 2009 کو بھی ایک فیصلہ سناچکی ہے۔ کیس کی مزید سماعت 18 اگست کو ہوگی۔
پرویز مشرف نے انقلاب مارچ کی حمایت کا اعلان کر دیا، کارکنوں کو شرکت کی ہدایت

کارکن انقلاب مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور دیگر شرکا کے لیے کھانے سمیت دیگر انتظام کریں، سابق صدر فوٹو: فائل اسلام آباد / لاہور: آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین و سابق صدر پرویز مشرف نے ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب مارچ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ کارکن انقلاب مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور دیگر شرکا کے لیے کھانے سمیت دیگر انتظام کریں۔ جمعرات کو اے پی ایم ایل کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر امجد کی قیادت میں پارٹی کے اعلیٰ وفد نے انقلاب مارچ کی روانگی سے قبل طاہر القادری سے ملاقات کی اور انھیں پرویز مشرف کا پیغام پہنچایا۔پرویز مشرف نے اپنے پیغام میں طاہر القادری کو انقلاب مارچ کی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ انھوں نے کارکنوں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ انقلاب مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔
(دنیا بھر سے) - کیا یہ صحیح ہے؟

ظالموں نے ظالم کی انتہا کر دی کہ جب تک اس خاتون کی سانسیں اور روح جسم سے پرواز نہ کر گئی اس پر پتھراؤ جاری رکھا۔ فوٹو فائل اس غریب عورت کی موت کی دعوت کے انتظامات بھی خوب کئے جا رہے تھے۔ جب اعلی سطح کی جانب سے حکم صادر کیا گیا تو سب سے پہلے تو پتھروں سے بھرا ہوا ٹرک وہاں پہنچایا گیا۔ جس میں لدے پتھر اس خاتون کو اس کی موت کی نوید سنا رہے ہوں گے ۔ حیران کن بات یہ تھی کا باغیچے کے ارد گرد رہنے والے لوگ سوائے اس تماشے کو دیکھنے کہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے ۔ اگر کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے تو کسی کی موت کا تماشہ دیکھنے کا مقصد انسانیت کے تمام تقاضوں کو کچلنے کے عین مترادف ہے۔ آخر کار زندگی کی آخری سانسوں نے اسے آ گھیرا اور داعش کے دہشتگردوں کے پتھراؤ نے اس صنف نازک کی جان نکال دی ۔ یہ واقع تب پیش آیا جب شمالی شام کہ ایک شہر میں داعش کی بربریت ایک بار دوبارہ اپنے عروج کو پہنچی اور صرف مبینہ بدکاری کہ الزام میں ایک خاتون کو پتھروں کی بوچھار کی نظر کر دیا گیا۔ ظالموں نے ظالم کی انتہا کر دی کہ جب تک اس خاتون کی سانسیں اور روح جسم سے پرواز نہ کر گئی اس پر پتھراؤ جاری رکھا۔ رونا تو اس بات کا ہے کہ کھڑا مجمع یہ سارہ معجزا دیکھتا رہا پر کسی کی ہمت بھی نہیں تھی کہ اس ظلم کہ خلاف آواز اٹھاتا۔ سنگساری کا یہ کوئی پہلا واقع نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ خواتین کو کیسے سنگسار کیا جاتا رہا ہے۔ گناہ کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن داعش کی جانب سے کئے جانے والے ان مظالم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بلکل اسی طرح چند روز قبل ایک 26 سالہ لڑکی کو بھی شام میں سنگسار کر کہ قتل کر دیا گیا تھا۔ داعش جوکہ مشرق وسطع میں اسلامی خلافت کا اعلان کر چکی ہے ۔اس دہشتگرد تنطیم کہ بڑھتے ہوئے عوام پر ًمظالم انسانیت کی تزلیل ہیں۔ جبکہ داعش کی ان کارروائیوں سے نا صرف شام اور عراق کہ بسنے والے عوام متاثر ہو چکے ہیں ۔ بلکہ یہ تنظیم پوری امت مسلمہ کہ ساتھ ساتھ دنیا کے لئے ایک بہت گھمبیر مسلہ کا سبسب بن چکی ہے۔ حال ہی میں عراقی یزیدی قبیلہ کے عوام داعش کی ظلمانہ کاروائیوں کی بنا پر اپنے علاقوں سے کوچ کر کہ پہاڑوں کی اوٹ میں پناہ گزین ہیں۔ جہاں کم سے کم چالیس ہزار سے زائد افراد کو کھانے پینے کی قلت کا شدید سامنا ہے ۔ کیا ایسی شدت پسندی اور ظالمانہ اقدامات اسلام کی ترویج کا باعث بن سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر عالم اسلام داعش دہشتگرد تنظیم کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں اور شام اور عراق پر ہونے والے ان حملوں پر چپ کیوں ہے ؟۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب علم اسلام کی بڑی قوتوں کو ایک نا ایک دن ضرور دینا ہو گا، کیونکہ دین کی حرمت پہ حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اور داعش کی جانب سے بمبوں سے اڑا دیئے جانے والے اصحاب اور پیغمبروں کی مزارات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ایسے جھوٹے جہادیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
Thursday, August 14, 2014
انقلاب کےذریعے پاکستان کومغربی طرزکاجمہوری ملک بنائیں گے، طاہر القادری
مرکز کے اختیارات کم کر کے ضلعی اور تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم کی جائے گی، طاہر القادری۔ فوٹو؛ فائل لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ انقلاب کے ذریعے پاکستان کو مغربی ممالک کی طرح پر امن اور جمہوری ملک بنائیں گے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں انقلاب مارچ کے لئے اسلام آباد روانگی سے قبل طاہر القادری کا کہنا تھا کہ انقلاب اللہ کے فضل سے ملک میں صحیح شراکتی جمہوریت کی بحالی لے کر آئے گا، ہمارا انقلاب 10 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل ہو گا اور مارچ کے ذریعے ملک کو آئینی، قانونی اور جمہوری حق دلائیں گے۔ طاہر القادری نے کہا کہ انقلاب مکمل طور پر پر امن اور جمہوری ہوگا جس کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نجات دلائیں گے، بے گھر افراد کو گھر فراہم کئے جائیں گے، عوام کو کھانے پینے کی اشیاء آدھی قیمت پر فراہم کی جائیں گی، ہر فرد کو روز گار فراہم کیا جائے گا، بچوں کے لئے مفت تعلیم ضروری ہوگی، عوام کو گھر کی دہلیز پر انصاف مہیا کیاجائے گا، انتخابی اصلاحات کی جائیں گی، کسانوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے، امیر اور غریب میں فرق ختم کرکے تمام افراد کو برابری کی سطح پر حقوق فراہم کئے جائیں گے، ہر سطح پر احتساب ہو گا اور کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ طاہرالقادری نے کہا کہ کسی کو بھی مارشل لاء کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، نئے صوبے بنائے جائیں گے، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دے کر آئینی حقوق فراہم کئے جائیں گے، مرکز کے اختیارات کم کر کے ضلعی اور تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم ہو گی۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، کسی کو بھی اقلیتیوں پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے، اقلیتوں کو بھی دوسرے شہریوں کی طرح حقوق دلوائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جیسی جمہوریت امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں ہے پاکستان کو بھی اسی طرز کا جمہوری ملک بنائیں گے۔ قائد اعظم کے افکار کے مطابق ملک سے مُلا ازم کا خاتمہ کریں گے، خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری کی سطح پر حقوق دیئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا جہاں ان کے ہمراہ ہزاروں کی تعداد میں کارکن موجود ہیں۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سخت سکیورٹی میں خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پہنچے جہاں ان کے ہمراہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنان گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر وزیراعلیٰ کے ہمراہ اسلام آباد کے ٹول پلازہ پہنچے تو انہیں سڑک بند ملی جس پر کنٹینرز کھڑے کئے گئے تھے، وزیراعلیٰ کی جانب سے کنٹینر ہٹانے کے لیے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا جس پر آئی جی نے انہیں کنٹینر ہٹانے کی یقین دہانی کرائی، اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کنٹینر نہ ہٹانے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنان کو کنٹینر ہٹانے کا حکم دیا جس کے بعد کارکنان نے سڑک پر لگے کنٹینروں کو ہٹا کر راستہ کھول دیا۔ اس سے موقع پر ایکسپریس نیوزخصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے دھاندلی کے ذریعے حکومت بنائی جس کے خلاف سارا پاکسان نکل آیا ہے اور اب ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ دھاندلی کی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات منوا کر ہی اسلام آباد سے اٹھیں گے اور حکمرانوں کا تختہ الٹ کر ہی واپس آئیں گے۔
اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا، بھارتی موسیقار یوون شنکر

ممبئی: جنوبی ایشیا کے سب سے کم عمر میوزک ڈائریکٹر کا اعزاز رکھنے والے بھارتی موسیقار یوون شنکر راجا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ماں کے انتقال کے بعد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ بھارتی میڈیا کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں یوون شنکر راجا کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کٹر ہندو تھے اور اپنے عقائد میں اس قدر پختہ تھے کہ اگر گھرمیں گلاس بھی ٹوٹ جاتا تو وہ کسی پنڈت کو بلالیتے تھے لیکن اس کے باوجود بچپن سے ہی انہیں ایک خیال سکون نہیں لینے دیتا تھا کہ خدا کی کوئی شکل کیسے ہوسکتی ہے، کوئی تو ایسی طاقت ہے جو اس پوری کائنات کو چلا رہی ہے۔ وہ اس طاقت کی تلاش میں سرکردہ رہتے تھے۔ 2011 میں ان کی والدہ اچانک انتقال کر گئیں اور انہوں نے ان کے ہاتھوں میں ہی دم توڑا۔ اس واقعے نے انہیں حیرت زدہ کردیا کہ چند ہی ساعتوں میں ان کی روح کہاں چلی گئی وہ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے لگے۔ یوون کا کہنا تھا کہ والدہ کے دنیا سے رخصت ہونے پر وہ شدید صدمے کی کیفیت میں تھے اور 2 برس تک ان کی یاد میں روتے رہتےتھے ، اسی دوران ان کے مسلمان دوست نے ایک مصلیٰ دیا کہ جب بھی اپنی والدہ کی یاد میں دل بوجھل ہو تو اس مصلے پر بیٹھ جایا کریں۔ انہوں نے وہ مصلیٰ لے کر اپنے کمرے کے ایک کونے میں رکھ دیا۔ ایک مرتبہ جب وہ اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے بہت غمگین تھے تو انہیں اس مصلے کا خیال آیا، وہ کمرے میں آئے اور مصلیٰ بچھا کر بیٹھ گئے۔ مصلے پر بیٹھنے کے ساتھ ہی وہ زار وقطار رونے لگے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے۔ اس واقعے نے ان کی روح کو تروتازہ کردیا اور اس کے بعد انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا۔ یوون شنکر کے مطابق جیسے جیسے انہوں نے قرآن کو سمجھنا شروع کیا تو ان پر اس کائنات کی حقیقت آشکار ہونے لگی اور بالآخر جنوری 2014 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے والد کو سب سے آخر میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی لیکن ان کے بھائی اور بھابھی نے ان کو کافی ہمت دلائی اور آج وہ ایک مسلمان بن کر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
لانگ مارچ کرنے والے امن اور ترقی پر بھی توجہ دیں، وزیراعظم

زیارت: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ منفی سیاست کو خیرباد کہہ کر سب کو مثبت سیاست کی جانب آنا چاہیئے۔ لانگ مارچ کرنےوالے امن اور ترقی پر بھی توجہ دیں۔ زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کی بحالی کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ زیارت ریذیڈنسی پر حملہ ملک کی تاریخ کا افسوسناک واقعہ ہے، جس طرح اس کی بحالی چند ماہ میں مکمل کی گئی، پاکستان کی تعمیر بھی اسی رفتار سے ہونی چاہئے۔ پاکستان کی ترقی کی منزل کو ہم جلد حاصل کرلیں گے اور پاکستان کے ہر حصے میں یکساں ترقی لائیں گے۔ اگر 10 سال امن کے مل جائیں تو ہم ترقی کی بلندیوں کو چھوئیں گے۔ ہر پاکستانی پہلے سے محسوس کررہا ہے کہ بلوچستان میں ماضی کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہے اس کے لئے وہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ میں بھی امن قائم ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تعمیر ہماری اولین ترجیح ہے، منفی سیاست کو خیرباد کہہ کر سب کو مثبت سیاست کی جانب آنا چاہیئے۔ کوئی انقلاب اور کوئی آزادی مارچ کی بات کرتا ہے۔ لانگ مارچ کرنےوالے امن اور ترقی پر بھی توجہ دیں، اگر آئندہ انتخابات پر ان کی حکومت قائم ہوئی تو کم از کم انہیں بنیادی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
CH NISAR AND GOVT. IN ACTION NOW
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دارالحکومت کے ریڈ زون کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لیتا ہوں اور کوئی ابہام میں نہ رہے اگر ریڈزون کی سیکیورٹی میں خلل ڈالا گیا تو قانون سختی سے حرکت میں آئے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ آئین و قانون کے مطابق اگر کوئی اسلام آباد میں جلسہ کرنا چاہتا ہے تو اس کی اجازت ہے، تحریک انصاف کی جانب سے جلسے کی درخواست انتظامیہ کو موصول ہوگئی جلد اجازت دے دی جائے گی جبکہ عوامی تحریک نے بھی جلسے کے لئے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ زون کی سیکیورٹٰی ڈبل نہیں بلکہ ٹرپل کردی گئی ہے، اگر کوئی احتجاج یا حکومت کے خلاف دھرنا دینا چاہتا ہے تو خوش آمدید کہیں گے تاہم قانون کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی گئی تو سختی سے نمٹیں گے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ صرف ریڈ زون کی نہیں بلکہ لانگ مارچ کے شرکا کی سیکیورٹی بھی عزیز ہے جس کے لئے دوسری جانب سے بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سول سوسائٹی، میڈیا، سیکیورٹی ایجنسیز اورعدلیہ متحرک ہے اگر کوئی قانون توڑنے کے حوالے سے حکومتی ایکشن پر ابہام کا شکار ہے تو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قانون توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ متعین کردہ جگہ پر کل پہنچ جائیں گے، حکومت کو سیاسی سرگرمیوں سے متعلق کوئی اعتراض نہیں تاہم اسلام آباد کی حدود میں کسی قسم کا اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہوگی، توقع کرتا ہوں لانگ مارچ کے شرکا اسلام آباد آکر متعین کردہ جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے آزدی اور انقلابی مارچ سے متعلق گزشتہ روز دیئے گئے اپنے مختصر فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کے مطالبات آئین کی خلاف ورزی ہیں اور آئین کی خلاف ورزی پر کارکنوں اور ان کے رہنماؤں کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ دھاندلی پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے تو اس صورت میں وہ لانگ مارچ نہیں کریں گے لیکن جب وزیراعظم کی جانب سے پیش کش کی گئی تو عمران خان نے اسے مسترد کردیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو غیر آئینی دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے انہیں اس صورت میں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
دوسری جانب عدالت نے لاہور کی سڑکوں سے کنٹینر ہٹانے کے حکم پر حکومت پنجاب کی نظر ثانی کی اپیل سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے عدالتی کارروائی ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)












