Saturday, December 13, 2014

عمران خان پاکستان کے غنڈے ہیں اور ملک بھر میں ان کی غنڈہ گردی چل رہی ہے، رانا ثنا اللہ

فیصل آباد واقعے کی ایف آئی آر عمران خان کی تائید کے بعد درج کرائی گئی ، رانا ثنا اللہ، فوٹو:فائل لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ عمران خان پورے پاکستان کے غنڈے ہیں اور اس وقت ملک بھر میں ان کی غنڈہ گردی چل رہی ہے۔ تحریک انصاف منفی ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں گرفتار نہیں کراسکتی۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے تھانہ سمن آباد میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا کہ 7 دسمبر کو ان کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس ہوا جس میں انہوں نے پارٹی کارکنوں کو اگلے روز تحریک انصاف کے کارکنوں پر تشدد کا حکم دیا اور اب شیریں مزاری کہتی ہیں کہ اس قسم کا اجلاس سرکٹ ہاؤس میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پورے پاکستان کے غنڈے ہیں اور اس وقت ملک بھر میں ان کی غنڈہ گردی چل رہی ہے۔ فیصل آباد واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے انہوں نے اسے خود سنا۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بحیثیت سیاستدان وہ عوامی حلقوں میں آتے جاتے رہتے ہیں اور اس دوران کسی کو بھی ان کے قریب کھڑے رہنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ تحریک انصاف کی جانب سے دائر کرائی گئی درخواست میں جن لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے کچھ کو تو پولیس نے خود گرفتار کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے 4 کارکنوں کو انہوں نے خود پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچے انسان کی مدد اللہ کرتا ہے، تحریک انصاف منفی ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں گرفتار نہیں کراسکتی۔

Monday, November 17, 2014

PAKISTAN TEHREEK-E-INSAF: اج کی دھماکہ خیز خبر۔

PAKISTAN TEHREEK-E-INSAF: اج کی دھماکہ خیز خبر۔: اج کی دھماکہ خیز خبر۔ ۔ پیر بابا بونیر میں اج ہزاروں کے تعداد میں لوگوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔۔جس میں جماعت اسلامی کے تین سابقہ...

PAKISTAN TEHREEK-E-INSAF: [Testimonial by Hira Maher on Sargodha Jalsa]

PAKISTAN TEHREEK-E-INSAF: [Testimonial by Hira Maher on Sargodha Jalsa]: [Testimonial by Hira Maher on Sargodha Jalsa] Karachi, Lahore, Mianwali, Multan and now Sargodha, the city of eagles also witnessed a hist...

Tuesday, September 23, 2014

Saturday, September 20, 2014

عمران خان اور طاہر القادری نے عوام کو نہ جانے کیا گھول کر پلا دیا ہے کہ جہاں جاؤ اورجس کو دیکھو وہ ملک میں انقلاب کی بات کرتا نظر آتا ہے چاہے اس کو انقلاب لفظ کے معانی کا سرے سے پتہ ہی نہ ہو۔


ہر ذی شعور اور عقل مند شخص تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات کو درست تسلیم کرتا ہے لیکن اُن مطالبات کی منظوری کے لئے اپنائے جانے والے طریقہ کار کو غلط قرار دیتا ہے۔ دو روز قبل میری ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا حامی ہوں اور نہ ہی تحریک انصاف کا ووٹر لیکن اس بات کا کریڈٹ خان صاحب کو دوں گا کہ انھوں نے عوام میں سیاست کا کچھ شعور ضرور اجاگر کیا ہے اور اب لوگ اپنے حق کی بات بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان ب باتوں کے باوجود اگر کوئی کراچی میں انقلاب کی بات کرے گا تو میرے خیال میں وہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف شخص ہی ہو گا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ بھائی آپ نے یہ کیا بات کردی تو جواب ملا کہ دیکھو، جب کراچی میں بجلی جاتی ہے تو ہم دوسری لائن سے کنڈا لگا لیتے ہیں اور اگر دوسری طرف کی لائٹ بھی چلی جاتی ہے تو ہم غیر قانونی طریقے سے گیس کے ذریعے جنریٹر چلا لیتے ہیں، نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کہ کوئی ہم سے پوچھے کیوں کہ ہم کراچی میں رہتے ہیں اور اگر ملک کے دیگر شہروں اور دیہات کی بات کی جائے تو وہ بھی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس کے بعد ان موصوف کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں بمشکل 15 سے 20 فیصد ایسے ایماندار لوگ ہوں گے جو پانی اور بجلی کا بل باقاعدگی سے اور پورا ادا کرتے ہوں گے تو ہم پاگل ہیں کہ انقلاب کی بات کریں۔ اگر اس ملک میں انقلاب آ گیا، جس کے آنے کے دور دور تک آثار نہیں ہیں تو پھر جب لوڈ شیڈنگ ہو گی تو ہم بجلی کیسے چوری کریں گے اور پھر ہمیں پانی اور بجلی کے بل بھی پورے ادا کرنے پڑیں گے۔ میں نے اپنے دوست کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ بھائی جب انقلاب آئے گا تو ملک کے نظام میں بہتری بھی تو آئے گی اور لوڈ شیڈنگ بھی کم ہوا کرے گی نا تو اس پر جواب ملا کہ بھائی جاؤ اپنا کام کرو یہ افسانوی انقلاب کی باتیں کراچی میں تو ممکن نظر نہیں آتیں۔ اتبا بڑا لیکچر دینے کے بعد میرے انقلاب مخالف دوست نے بریک نہیں لگائی بلکہ ملک کی ابتر صورتحال پر ایک اور موضوع کو چھیڑدیا۔ کہنے لگے کہ ان کے ایک جاننے والے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ 20 سال سے سرکاری اسکول میں ٹیچرکی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن جب سے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تو ان کا معمول ہے کہ صبح ہوتے ہی عمران خان کے خلاف مغلظات بکنا شروع کرتے ہیں اور شام تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ اس حکومت کے آنے سے پہلےوہ اسکول جائیں یا نہیں یہ اُن کی اپنی مرضی ہوا کرتی تھی اور جس دن اُن کی مرضی اسکول کا رُخ کرنے کے لیے حامی بھرتی تھی اُس دن بھی وہ جب دل چاہے واپس آ جاتے تھے غرض یہ کہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا لیکن جب سے صوبے میں عمران خان کی حکومت بنی ہے تو اُن کی زندگی عذاب بن گئی ہے ۔ اب انہیں روزانہ 5 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرکے اسکول جانا پڑتا ہے اور پھر تھمب امپریشن کی مدد سے آنے اور جانے کا ٹائم بھی نوٹ کرانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اُن کے مال مویشی سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں اور پھر جب میں واپس جاتا ہوں تو ان کی خدمت کرتا ہوں۔ اتنے بڑے لیکچر سننے کے بعد مجھے میری کمزوریوں کا بھی احساس ہوا اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنی دوست کی بات کی حمایت کرنی پڑی اور اُن سے کہا کہ واقعی کہا تو آپ نے درست ہی ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی سرکاری نوکری ہو تاکہ وہ بھی اپنی مرضی سے دفتر جائے اور ہفتے میں 4 دن جائے یا پھر پورا ہفتہ بھی غائب رہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اگرچہ گزشتہ 67 کی خرابیوں نے مجھے بھی غلطیوں اور خرابیوں کا پیکر بنا دیا ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا حکمران چور ہو تاکہ مجھے بھی چوری کا پورا اختیار ہو۔ لیکن یہ میرا ذاتی فائدہ ہے اِس ملک کا نہیں۔ اِس ملک میں رہنے والوں کی اکثریت اب بھی ایسی زندگی گزاررہی ہے جو کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ اگر چہ اُس اکثریت کو کچھ کہنے کا حق نہیں دیا گیا مگر سوچنے پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتا ۔ وہ آج بھی اِس وطن عزیز کو فلاحی ریاست بنتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ سب کچھ روایتی حکمرانوں کی موجودگی میں تو مکمل طور پر ناممکن ہے ۔ لہذا میری عمران خان اور طاہر القادری سے ایک چھوٹی سی التجا ہے کہ خدارا لوگوں نے آپ سے اگر امیدیں باندھ ہی لی ہیں تو انھیں پچھلے حکمرانوں کی طرح مایوس مت کیجیئے گا کیونکہ اگر آپ دونوں نے بھی قوم کو مایوس کیا تو یہ نہ ہو کہ قوم کو آئندہ انقلاب کے نام سے بھی نفرت ہو جائے۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کراچی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ نواز شریف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، قربانی سے پہلے قربانی ہوگی، 2015 انتخابات کا سال ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کوئی کسی کو پاک فوج کی پیداوار کا طعنہ نہ دیں، اس ملک میں کوئی ایک بھی ایسا سیاست دان نہیں جسے فوج کی حمایت حاصل نہ رہی ہو خود نواز شریف جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں۔ نواز شریف ایک کاروباری وزیر اعظم ہیں انہوں نے اپنے دور حکومت میں جرنیلوں اور ججوں کو خریدا۔ ہم مسائل میں گھرے عوام کے لئے لڑرہے ہیں، نواز شریف جمہوریت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں، جہاں نوازشریف جائیں گے دھرنا بھی وہاں جائے گا۔ انہیں ایک نشست والی جماعت کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نوازشریف کی حمایت کرنے والی 11 میں سے 8 جماعتیں زیادہ نمائندگی نہیں رکھتیں۔ وہ عمران خان کے اتحادی ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا دشمن ایک ہی ہے اور نواز شریف سے نجات دونوں ہی کا ایجنڈا ہے، اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ کہ دونوں رہنماؤں کو لاہور سے ایک ساتھ نکلنا پڑے گا اور اسلام آباد میں اکٹھا ہونا پڑے گا اور بالاخر یہی ہوا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بہت اہم تھا لیکن اب اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خط بھی سامنے آگیا ہے اور جلد ہی جرنیلوں کے حلف نامے بھی آجائیں گے۔ اب معاملہ پرویز مشرف کا نہیں نواز شریف کے استعفے کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک جماعت ہوگئی ہے، خورشید شاہ کے خلاف نیب میں موجود کیسز ختم ہورہے ہیں اس لئے وہ نواز شریف کی حمایت میں بول رہے ہیں لیکن نواز شریف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 2015 انتخابات کا سال ہے اور قربانی سے پہلے قربانی ہوگی۔

Wednesday, September 10, 2014

نوازشریف کو ہٹائے جانے کاخطرہ ہے، امریکی تھنک ٹینک

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے تھنک ٹینک(سی آرایس) نے کہا ہے کہ نوازشریف کوعہدے سے ہٹائے جانے کے خطرات کا سامنا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی ’’پاکستان کاسیاسی بحران‘‘ کے عنوان سے جاری تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے بھارت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہونے کاخدشہ ہے۔ سی آرایس کے جنوبی ایشیائی امورسے متعلق ماہرایلن کروسٹیڈکی جانب سے تیارہ کردہ اس رپورٹ میں کہا گیاہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے سیاسی بحران پرقابوپانے اور مظاہرین وحکومت سے مذاکرات کے لیے بطورسہولت کارفوج کی مدد طلب کی۔ اس سلسلے میںکئی تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اگرچہ انھوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے سویلین اداروں پر کنٹرول کااظہار نہیں کیا تواس سے وہ کمزورصورتحال میںہیں۔کئی مبصرین کایہ بھی کہناہے کہ موجودہ سیاسی بحران نوازشریف کوکمزور کررہا ہے اورملک میں جمہوری عمل کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ مبصرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ فوج حکومت کابراہ راست کنٹرول حاصل کرناچاہے

Friday, September 5, 2014

صدر کا دورہ پاکستان طے ہی نہیں ہوا، منسوخی کی رپورٹس غلط ہیں، چینی وزارت خارجہ


بیجنگ: چین نے صدرژی جن پنگ کے دورہ پاکستان کی منسوخی سے متعلق رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی دورہ حکومتی سطح پر طے ہی نہیں تھا۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان قائن گینگ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے کبھی سرکاری سطح پر صدر کے دورہ پاکستان کا اعلان ہی نہیں کیا تھا تاہم صدر کے رواں ماہ کے وسط میں سری لنکا، بھارت اور پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان بہترین ہمسایہ دوست ممالک ہیں، دونوں ملک آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کیساتھ رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انھوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ ملکی استحکام کیلیے پاکستانی فریقین سیاسی مفاہمت سے کام لیں۔

طاہرالقادری اور 10 کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

راولپنڈی: انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عوامی تحریک کے10کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور حکم دیا ہے کہ ان سب کو گرفتار کر کے جمعہ 12 ستمبر کو عدالت پیش کیا جائے۔ ان کیخلاف انقلاب مارچ کے دوران انٹرچینج پر پولیس کے ساتھ تصادم کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور درجن بھر پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس کی شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج سے50کے قریب عوامی تحریک کی خواتین بچے اور مرد بھی زخمی ہوگئے تھے۔ آر پی او راولپنڈی کے حکم پرکانسٹیبل کی ہلاکت کا مقدمہ ڈاکٹر طاہر القادری کیخلاف درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا گوجرانوالہ سے نمائندے کے مطابق انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج چوہدری امتیاز نے پولیس تشدد کیس میں ملوث عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے تیسری مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انھیں 15 ستمبر کو گرفتار کر کے پیش کرنیکا حکم دیا ہے۔

Wednesday, September 3, 2014

عمران، قادری اور دیگر رہنماؤں کیخلاف 11 مقدمات درج

اسلام آباد / راولپنڈی: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری، شیخ رشید، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، جہانگیرترین،عارف علوی، شفقت محمود و دیگرپارٹی رہنماؤں اور 22 ہزار کارکنوں کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس، اہم سرکاری عمارتوں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ، راستے بند کرنے اور دیگر الزامات کے تحت اسلام آباد کے 6 تھانوں میں انسداددہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 دیگرسنگین دفعات کے تحت11مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ تھانہ آبپارہ ،کورال اور بھارہ کہومیں ایک ایک، تھانہ مارگلہ میں2جبکہ تھانہ سیکریٹریٹ اور تھانہ کوہسار میں تین تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔پی ٹی وی، پارلیمنٹ ہائوس ودیگراہم سرکاری دفاترپرقبضہ کرنے اور قبضہ کرانے کے الزام میں عمران خان،طاہرالقادری،خرم نواز،رحیق عباسی،عامرمغل ودیگرنامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس جانے کے اعلان کے بعد دھرنا میں بھگدڑمچنے سے گلفام بھٹی اور رفیع اللہ شدیدزخمی ہوئے جو بعدازاں جاں بحق ہوگئے لہٰذامذکورہ دونوں رہنماؤں کیخلاف مقدمہ میں قتل،اقدام قتل،بلوہ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔شاہ محمودقریشی،عارف علوی،جہانگیرترین سمیت6رہنمائوں اور20کارکنوں کیخلاف پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسملی افتخار مشوانی کوتھانہ سے چھڑانے کا مقدمہ درج کیا گیاہے۔ تھانہ سیکریٹریٹ کے محرر ملک محمدحیات نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایاکہ ملزم افتخارمشوانی مقدمہ نمبر182 میں گرفتارتھے۔ شاہ محمودقریشی کی قیادت میں پی ٹی آئی رہنمااور20کارکنوں نے تھانہ پردھاوا بول دیا اور افتخارمشوانی کو زبردستی چھین کرفرار ہوگئے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثارکی سرکاری کارکوروک کر پتھراؤکرکے شدید نقصان پہنچانے کے الزام میں پی ٹی آئی اورعوامی تحریک کے کارکنوں کیخلاف تھانہ کوہسارمیں مقدمہ نمبر405درج کرلیاگیا ہے۔ یہ مقدمہ فاضل جج کے ڈرائیور نے درج کرایا،واقعے کے وقت فاضل جج گاڑی میں موجود نہیں تھے۔دریں اثناتحریک انصاف اور عوامی تحریک کے103کارکنوںکو ڈیوٹی مجسٹریٹ نے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا ہے۔ادھر اسلام آباد پولیس نے مذکورہ بالا مقدمات میں آئندہ24گھنٹوں کے اندربڑے پیمانے پرکریک ڈاؤن کرنے کے پلان کو حتمی شکل دیدی ہے مگر وزیرداخلہ کے حتمی حکم کاانتظار ہے۔ ایک سینئر پولیس آفیسرنے بتایاکہ مقدمات میں شہادت کے طورپرعمران خان اور طاہرالقادری کی تقریریں شامل کی جائیںگی۔ان کا کہناتھاکہ عمران خان کوحکومت فوری گرفتارکرنانہیں چاہتی البتہ طاہرالقادری کو گرفتار یا ضلع بدر کرنے کا آپشن وزارت داخلہ کے پاس موجودہے۔ تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے116 کارکنوں کوتھانہ سیکریٹریٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ،قتل،اقدام قتل،املاک کو نقصان پہنچانے اور اعانت جرم میں درج 2مختلف مقدمات میں باقاعدہ گرفتاری ظاہرکرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیاگیا۔راولپنڈی کے مختلف مقامات سے حراست میں لے کر اڈیالہ جیل میں نظر بندکیے گئے مزید6افرادکو ضلعی انتظامیہ کے احکامات ملنے پر رہا کردیا گیا۔ راولپنڈی کیتھانہ ایئرپورٹ میں تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں سمیت50 کارکنوں کیخلاف املاک کونقصان پہنچانے اور دفعہ144کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیاگیا ۔یہ مقدمہ سیکیورٹی ڈویژن میں تعینات پولیس ملازم محمد بشیر نے درج کرایا جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے پتھرائوکے نتیجے میں سرکاری گاڑی کے 4 شیشے ٹوٹ گئے۔

باغی نہیں ’’داغی‘‘ جاوید ہاشمی پر پی ٹی آئی کے ورکرز شدید برہم

لاہور: تحریک انصاف کے اسلام آباد میں20 روز سے جاری دھرنے اور عمران خان کے پر عزم رویے نے پارٹی کارکنوں کے جوش و خروش کو اس حد تک جوان کر دیا ہے کہ جاوید ہاشمی کے بیانات اور مرکزی قیادت پر الزامات کے باوجود اس کے اعتماد میں کمی نہیں آئی بلکہ جماعت کے اندر اور سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم چل پڑی ہے۔ جس میں جاوید ہاشمی کو ’’باغی‘‘ کی جگہ’’داغی‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی لاہور اور اسلام آباد کے دھرنوں میں درجنوں کارکنوں نے ’’باغی نہیں داغی۔۔الوداع‘‘کے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ تحریک انصاف کے نوجوان ورکرز جو کہ جاوید ہاشمی کو بہت اہمیت دیتے تھے ان میں بھی جاوید ہاشمی کی نئی’’بغاوت‘‘پر شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ انکی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جانے کی انکوائری رپورٹ کے بعد جاوید ہاشمی کی ساکھ گر گئی تھی اور کئی ماہ سے ان کے مسلم لیگ(ن) بالخصوص خواجہ سعد رفیق کے ساتھ خفیہ رابطوں کی افواہیں بھی گردش میں تھیں۔گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران عمران خان پر حکومت اور اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے تابڑ توڑ سیاسی حملوں کے باوجود تحریک انصاف کے ورکر پرعزم ہیں اور انہیں اپنی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔

Tuesday, September 2, 2014

Chairman PTI Imran Khan today categorically stated that in his 18 years struggle for Insaf and democracy he has never needed any crutches to bolster him politically. He has always stood by his principles of fighting for real democracy and the rights of the ordinary people of Pakistan regardless of caste or creed. He neither needs to nor would seek to approach the military on political issues. In fact Khan reminded that throughout the Azadi March he has emphasised that he would never accept any undemocratic action or intervention.


ریڈ زون میں مظاہرین ایک مرتبہ پھر متحرک، پی ٹی وی چوک سے کئی کنٹینر ہٹا دیئے گئے


اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں رات بھر سکون کے بعد مظاہرین ایک مرتبہ پر متحرک ہوگئے ہیں اور پی ٹی وی چوک پر موجود کنٹینرز کو گرایا جارہا ہے۔ شاہراہ دستور اور اور مارگلہ روڈ کے سنگم پر پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے جو پنجاب ہاؤس کے مرکزی دروازے تک موجود ہے۔ شاہراہ دستور پر پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا قبضہ ہے جو ہر آنے جانے والی گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں تاہم وہ کسی شخص کو آگے نہیں جانے دے رہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان سیکریٹریٹ کے ملازمین بری امام کے راستے سے ’’کے‘‘ بلاک پہنچتے ہیں جہاں سے وہ اپنے منزل مقصود تک پیدل ہی پہنچ رہے ہیں جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار تک کسی بھی شخص کو پہنچنے کے لئے عوامی تحریک کے کارکنوں کی اجازت درکار ہے۔ دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پی ٹی وی چوک پر موجود یکے بعد دیگرے کنٹینر ہٹا رہے ہیں تاہم وہاں انہیں کوئی بھی روکنے والا ہی نہیں۔ ہر کنٹینر گرانے کے بعد مظاہرین خوشی کے اظہار کرتے ہوئے مسلسل نعرے لگارہے ہیں۔ چوک کے ساتھ ہی سرکاری ٹی وی کا ہیڈ کوارٹر بھی موجود ہے تاہم گزشتہ روز کی نسبت آج وہاں معمول کے مطابق ملازمین اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

موجودہ سیاسی بحران پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، ارکان کی دھواں دھار تقاریر


Monday, September 1, 2014

عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق قائم مقام آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں عمران خان اور طاہرالقادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر میں جھتہ بنا کر پولیس پر حملہ کرنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں شامل تمام دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری کے علاوہ تحریک انصاف کے ڈپٹی چیرمین شاہ محمود قریشی، صدر تحریک انصاف پنجاب چوہدری اعجاز، عوامی تحریک صدر رحقیق عباسی، خرم نواز گنڈا پور اور دیگر مرکزی قائدین کے ساتھ ساتھ سیکڑوں کارکنوں کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی کو بھی ایف آئی آر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی وزیراعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور مظاہرین پر آنسو گیس فائر کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔

لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کر دیا


کراچی: ن لیگ کے ناراض رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی نے پارٹی عہدے چھوڑنے کے10 ماہ بعد ن لیگ سے اپنے ساتھیوں سمیت علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مظاہرین کے خلاف انتظامی ردعمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے نواز شریف اور شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج سے ن لیگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، میرے اور میرے ساتھیوں کی ن لیگ سے علیحدگی کا مطلب سندھ کے 5 لاکھ لوگوں کی علیحدگی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اسلام آباد میں پولیس نے مظاہرین پر بے انتہا ظلم کیا ہے، ہم بچوں اور خواتین پر ظلم کرنے والوں کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتے۔ لیاقیت جتوئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنی نا سمجھی سے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، شریف برادران فوری طور پرمستعفی ہوجائیں اور مسائل کے حل کے لیے قومی حکومت قائم کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔

فوج کی نگرانی میں نگراں قومی حکومت کا قیام ناگزیر ہے، پرویز مشرف


کراچی: آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فوج کی نگرانی میں نگراں حکومت کا قیام نا گزیر ہو چکا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج عوام پاکستان کا آئینی وجمہوری حق ہے مگر دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آکر ہمیشہ فوج کے خلاف سازش کرنے والے سازشوں کو نہ صرف اسمبلی کے فلور تک لے گئے بلکہ اسلام آباد میں 2 ہفتوں سے زائدپرامن احتجاج کرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے علاوہ حکمرانوں کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھانے والے میڈیا نمائندگان پر بھی ریاستی تشددکے ذریعے جس کردارکا مظاہرہ کررہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ’ج‘‘ سے جمہوریت اور ’’ج‘‘ سے جبر کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اے پی ایم ایل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پرویزمشرف نے فوج کومداخلت پرمجبور کرنے کی حکومتی پالیسی پرتنقیدکرتے ہوئے کہاہے کہ ملک سنبھالنے اورعوام کوڈلیور کرنے میں ناکام حکمران سیاسی شہیدبنناچاہتے ہیں اوراسی لیے دانستہ جمہوریت کیلیے خطرات پیداکررہے ہیں۔ پرویز مشرف نے انقلاب مارچ کے شرکااور صحافیوں پر بدترین تشددکوعوام وجمہوریت کش پالیسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اب موجودہ ٹولہ مزید حکمران رہاتوجمہوریت پر سے عوام کااعتمادبھی اٹھ جائے گا۔

ملک کو شریف برادران کی بادشاہت سے واگزار کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا، طاہر القادری

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ملک کو شریف برادران کی بادشاہت سے واگزار کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا ہے، ان کا آرمی چیف سے نہ پہلے کبھی رابطہ تھا نہ ہی چند روز قبل ہونے والی ملاقات کے بعد کوئی رابطہ ہے۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکومت کی فطرت میں دہشت، بربریت اور ظلم ہے۔ ہفتے کی رات پولیس کی جانب سے پر امن مظاہرین پر جبر و تشدد کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ جس کے بعد آج ایک مرتبہ پھر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی، حکومت جمہوریت اور مزاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر وہ بات چیت کے لئے رابطہ بھی کرتے ہیں تو ایک قدم آّگے نہیں بڑھنا چاہتے۔ انہوں نے شریف برادران کو آّئین، قانون، جمہوریت اور آئین پاکستان سمجھ رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی بادشاہت سے پورے ملک کو یرغمال بنالیا ہے۔ ملک کو ان کی بادشاہت سے واگزار اور انقلاب کے ذریعے اس ملک کے کروڑوں عوام کو آزاد کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے راستے اختیار کئے بغیر مذاکرات کے ذریعے سیاسی طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جائے مگر بدقسمتی سے حکومت تشدد کے سوا کسی دوسرے طریقے پر اعتماد نہیں کرتی، یہ لوگ صرف ظلم ، جبر اور ریاستی اداروں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا آرمی چیف سے کبھی پہلے رابطہ تھا نہ ہی چند روز قبل ہونے والی ملاقات کے بعد کوئی رابطہ ہے۔ ہم ان معاملات کو پاک فوج کو شامل کرنے کے حق میں نہیں اور پاک فوج بھی اس میں شامل ہونا نہیں چاہتی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے آرمی چیف کو اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

Saturday, August 30, 2014

آج شام اہم اعلان کروں گا عوام اپنے بچوں اور ملک کے مستقبل کیلئے اسلام آباد پہنچیں ،عمران خان


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک سے خاندانی حکومت ختم کرنے کےلئے حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے لہذا آج تمام پاکستانی اپنے بچوں اور ملک کے مستقبل کےلئے یہاں پہنچیں کیوں کہ شام کو اہم اعلان کروں گا۔ اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمارے یہاں ایک شخص دھاندلی کرکے خود کو وزیراعظم بول رہا ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ایک مہینے کےلئے استعفیٰ دے کر انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کروائیں اور دھاندلی ثابت نہ ہوتو وہ دوبارہ اپنا منصب سنبھال لیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی جمہوریت کا یہی اصول ہے اگر کسی وزیر پر کوئی الزام ہوتا ہے تو وہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دیتا ہے اور بے قصور ثابت ہونے پر دوبارہ عہدہ سنبھال لیتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے کہا جارہا تھا کہ دھرنوں اور احتجاج سے جمہوریت کو خطرہ ہے لیکن جب وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولتے ہیں تو کیا اس وقت جمہوریت کو خطرہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نے لاہورمیں پولیس والوں سے نہتے لوگوں پر گولیاں چلوائیں اور اپنا نام تک ایف آئی سے نکلوا دیا اگر یہ سب خیبر پختونخوا میں ہوتا اس کی آن لائن ایف آر درج ہوجاتی اور وزیراعلیٰ کسی پر گولی چلانے کا حکم بھی دیتے تو آئی جی انہیں منع کردیتے کیوں کہ وہاں پولیس غیر سیاسی ہے۔ تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے اور کہا کہ عمران خان کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے جب آئی جے آئی بنائی گئی تو فوج ان کے پیچھے تھی، جنرل ضیاالحق کی نرسری میں پلنے والے مجھے بول رہے ہیں کہ میرے پیچھے فوج ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے اگلے الیکشن شفاف بنانے کےلئے صرف 4 حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اپنے بیانات میں یہ بھی واضح کردیا تھا کہ اگر مجھے قانونی طریقے سے انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلوں گا، افغانستان میں 70 لاکھ ووٹوں کی تصدیق ہوسکتی ہے تو یہاں کیوں نہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

تحریک انصاف کے لائرز فورم نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں انصاف لائر فورم کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کی درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے قومی اسمبلی میں فوج کی ثالثی کے معاملے پر قوم سے جھوٹ بولا ہے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے جس کے تحت وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے اہل نہیں ہیں۔ درخواست میں تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو نواز شریف کی این اے 120 سے بطور رکن قومی اسمبلی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے۔

Wednesday, August 27, 2014

حصص مارکیٹ، وزیراعظم کے استعفے کی افواہ سے انڈیکس منہ کے بل آپڑا

کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو کاروباری سرگرمیاں سیاسی افق پر پھیلنے والی منفی افواہوں کی زد میں رہیں۔ وزیراعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران مارکیٹ میں وزیراعظم کے ممکنہ استعفیٰ کی افواہیں زیرگردش رہیں جس سے مندی کی شدت ایک موقع پر658 پوائنٹس تک جا پہنچی تھی کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ دینے کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام شدت اختیار کر جائے گا اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی ریٹنگ میں کمی کردیں گی۔ ان خدشات کے پیش نظر سرمایہ کاروں کی جانب سے دھڑا دھڑ حصص کی آف لوڈنگ کی گئی تاہم پارلیمنٹ سے خطاب ختم ہونے کے بعد ان منفی افواہوں نے دم توڑدیا جس کے سبب مارکیٹ میں دوبارہ خریداری سرگرمیاں بحال ہوئیں اور مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی تاہم مندی کے سبب انڈیکس کی28000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی، 71.30 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید81 ارب 23 کروڑ52 لاکھ3 ہزار116 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مندی کی شدت میں کمی کے لیے لسٹڈ کمپنی پی پی ایل کے اچھے مالیاتی نتائج کے اعلان نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف شعبوں کی جانب سے نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر 50 لاکھ5 ہزار271 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر64.18 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے23 لاکھ8 ہزار891 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے11 لاکھ 945 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے8 لاکھ57 ہزار283 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے7 لاکھ38 ہزار153 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے مندی کے اثرات کو غالب کیا جس کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس432.24 پوائنٹس کی کمی سے 27811.35 ہوگیا۔ جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 332.46 پوائنٹس کی کمی سے19365.10 اور کے ایم آئی30 انڈیکس651.07 پوائنٹس کی کمی سے 45374.53 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 73.13 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ 23 لاکھ 12 ہزار500 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار345 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں79 کے بھائو میں اضافہ، 246 کے دام میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔بدھ کواسلام آباد اورلاہوراسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کارجحان رہا۔

حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری



اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔

حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری


اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔

حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ختم اور آج فیصلے کا دن ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری


اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گورنر سندھ اور پنجاب نے مسئلے کے حل کے لیے روز اول سے کوششیں کی اور آخری رات تک اپنی کوششیں جاری رکھیں جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اسے امن سے محبت نہیں،نوازشریف اور شہبازشریف کی خاندانی بادشاہت قائم ہے وہ آئینی، قانونی ،جمہوری اور اخلاقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ مقتولین کے ورثا اور مظلوموں کا حق ہے جس کا حکم عدلیہ نے بھی دیا ہے اور اب ہر اعتبار سے واجب ہے کہ اس کی ایف آئی آر درج کی جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری استعفیٰ لیا جائے تاکہ سانحہ کی غیر جانبدارانہ،آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوسکیں لیکن وزیراعظم نے ہماری شرائط نہیں مانیں،حکومت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو دور کی بات مظلوموں کی ایف آئی آر کٹوانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوچکے اور اب یہ دروازہ بند ہوچکا ہے، اب کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس آنے کی تکلیف نہ کرے ہم نے امن، جمہوریت اور مذاکرات کو آخری حد تک موقع دیا لیکن حکمرانوں کی نیت میں لوگوں کو عدل و انصاف دینا نہیں ہے۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اب ہم پر سے مذاکرات کا اخلاقی بوجھ ختم ہوچکا ہے ہم نے آخری حد تک اس فریضے کو نبھایا اور عمران خان نے بھی اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان ملتوی کیا لیکن اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ ہم نے پر امن مذاکرات کو حد سے بڑھ کر موقع دیا، ہم سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتا، اب عوام فیصلہ کریں گے، آج یوم انقلاب ہے اور آج میں اپنا آخری اور تاریخی خطاب کروں گا ہم اب عوام کو زیادہ نہیں بٹھائیں گے بلکہ فیصلہ کریں گے،اب عوام کا جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور وہ جرگہ جو فیصلہ کرے گا اس پر ہی عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی تقدیر کے فیصلے کا دن ہے،عوام گھروں سے نکلیں یہ میری آخری اپیل ہے۔

موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے اپنا دورہ ترکی منسوخ کردیا

اسلام آباد: ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے اپنا دورہ ترکی منسوخ کردیا۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق موجودہ ملکی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کردیا، وزیراعظم کو نو منتخب ترک صدر رجب طیب اردوان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا تھی تاہم اب ان کی جگہ صدر مملکت ممنون حسین ترکی کا دورہ کریں گے جس کے لیے وہ آج روانہ ہوں گی۔ ایوان صدر نے صدر ممنون حسین کی ترکی روانگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ صدر مملکت اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد جمعہ کو وطن واپس آئیں گے۔

میرا آئندہ اعلان قانون کے مطابق مگر نوازشریف کے لیے خطرناک ہوگا، عمران خان

اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہےکہ اچھی خبر آنے والی ہے اسی وجہ سے اپنا اہم اعلان 24 گھنٹے کے لیے ملتوی کررہا ہوں جبکہ میرا جو بھی اعلان ہوگا وہ جمہوریت اور آئین کے دائرے میں ہوگا لیکن وہ نوازشریف کے لیے خطرناک ہوگا جس کےبعد پہلی بار کوئی طاقتور قانون کے نیچے آئے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی پر انصاف کے لئے 14 ماہ تک پارلیمنٹ سمیت ہردروازے پر دستک دی لیکن ہمارے سامنے ہر درواز بند کردیا گیا،ٹریبونلز میں 90 فیصد کیسز تکنیکی وجوہات بناکر نمٹا دیئے گئے اور جو بھی حلقہ کھلا وہاں ریکارڈ دھاندلی سامنے آئی تاہم 14 ماہ بعد بھی انصاف نہ ملنے پر عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق سڑکوں پر آکر احتجاج کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آج حکومت عوام کے دباؤ پر نوازشریف کے استعفے کے سوا سب کچھ ماننے کو تیار ہے اگر ہمیں اعتماد ہوتا کہ نوازشریف کی وزرات عظمیٰ میں انصاف مل سکتا ہے تو کب کا قبول کرلیتے لیکن جب وزیراعظم خود دھاندلی میں ملوث ہیں جس کے ہمارے پاس تمام ثبوت ہیں،شہباز شریف کے ہوتے ہوئے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف نہیں مل سکتا اس لیے شریف برادران کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ ہم یہاں سے چلے جائیں، مجھے نائب وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی گئی تاکہ مجھے خریدا جاسکے لیکن میں تمام جدوجہد پاکستان کے لئے کررہاہوں اگر عوام اس موقع پر پیچھے ہٹ گئے تو نوازشریف کے ہوتے ہوئے کسی صورت آزادانہ تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔ چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے اگر ہم اس وقت صحیح فیصلہ کریں گے تو نیا پاکستان بن جائے گا اور اگر ہم یہاں سے چلے گئے تو نوازشریف وہی کریں گے جو ہمیشہ کیا، یہ لوگ سب کو خرید لیں گے۔ عمران خان نے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب نوازشریف کے استعفے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،چاہے جو مرضی ہوجائے نوازشریف کے استعفے کے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے کیونکہ اب حکومت سے بات چیت کیلئے کوئی گنجائش نہیں رہی جبکہ ہم یہ سب فوج کے کہنے پر نہیں کررہے ہیں یہ ہمارا جمہوری حق ہے جس کے لیے تمام جمہوری طریقے اختیار کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام چیزوں پر رضا مندی ظاہر کی اور صرف تحقیقات کے دوران تک نوازشریف کو مستعفی ہونے کا کہا جس کے بعد اگر دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو وزیراعظم واپس آجائیں اور اگر دھاندلی ثابت ہوگئی تو ملک میں ری الیکشن کرائے جائیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارا کوئی مطالبہ غیر جمہوری نہیں یہ سب جمہور یت کا حصہ ہے لیکن حکومت نے مطالبات نہیں مانے کیونکہ انہیں تحقیقات میں دھاندلی کے سامنے آنے کا ڈر تھا۔ انہوں نے کہا کہ افضل خان نے الیکشن میں دھاندلی کا انکشاف کیا انہیں اب حکومت کی جانب سے دھمکیاں دی جائیں گی، حکومت اب سچ بولنے کے لیے سامنے آنے والے لوگوں کے پیچھے پڑ جائے گی اور آزادانہ تحقیقات نہیں ہونے دے گی۔ ان کہنا تھا کہ جمہوریت بچانے کے لیے نوازشریف کے استعفیٰ کے علاوہ کسی صورت کوئی چیز قبول نہیں،، فیصلہ کن وقت آ پہنچا ہے، قوم فیصلہ کرے کہ ظالم نظام کا حصہ رہنا ہے یا نیا پاکستان بنانا ہے،میں جمہوری انسان ہوں کبھی فوجی یا غیر جمہوری قوت کا حصہ نہیں بنا، صرف پرویز مشرف کو ریفرنڈم میں حمایت کی جس پر قوم سے معافی بھی مانگی۔

تھرپارکر سے این اے 230 کے ریٹرننگ آفیسر نے دھاندلی کا اعتراف کرلیا

مٹھی: تھرپارکرکے این اے 230 کے ریٹرننگ آفیسر اور سینئر سول جج کی جانب سے الیکشن 2013 میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کااعتراف کیا گیا ہے مذکورہ حلقے سے پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور انھیں شکست ہوئی تھی۔ ریٹرننگ آفیسر میاں فیاض ربانی نے اپنی رہائش گاہ پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے حلقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی، اس حلقے میں 34 پولنگ اسٹیشنوں کا تمام ریکارڈ مسلح افراد نے جلا دیا تھا اورعملے کو 3 روز تک یرغمال بنایاگیا جنھیں آرمی کی مدد سے بازیاب کرایاگیاتھا۔ آراو نے کہا کہ دھاندلی کی تمام رپورٹس الیکشن کمیشن کوبھیج دی تھیں مگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیاگیا، دوسری بار ری پولنگ کے لیے میں نے فوج کو بلانے کا لکھا جس کے بعد فوج کی نگرانی میں الیکشن کرایا گیا۔ فیاض ربانی نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت نادراکی جانب سے حلقے کی پی ایس باسٹھ پرانگوٹھوںکی تصدیق سے بھی واضح ہوگیا ہے۔ اس جانچ میں3 ہزار شناختی کارڈزجعلی نکلے،جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ بڑی تعداد میں جھوٹے کارڈ نمبر لگائے گئے۔ دھاندلی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، اس کے متعلق بھی الیکش کمیشن کو آگاہ کردیا تھا، مگر بروقت کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ یہ واضح ثبوت ہیں کہ تھر میں ری پولنگ ہوئی اس سے زیادہ کیا ثبوت ملیں گے۔ الیکشن سے پہلے بھی الیکشن کمیشن کو دھاندلی روکنے کے لیے ایک جامع رپورٹ دی گئی تھی جس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار پیر نور محمد شاہ جیلانی نے پی ٹی اے کے مخدوم شاہ محمود قریشی کو 18 سو ووٹوں سے ہرا کر کامیابی حاصل کی ہے۔ جس پر شاہ محمود قریشی نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ میاں فیاض ربانی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور الیکشن کمیشن کو الیکشن سے قبل لیٹر لکھا تھا، جس میں انھوں نے 10نکاتی تجاویز دی تھیں جن پر الیکشن کمیشن نے کوئی عمل نہیں کیا۔

2 روز میں معاملہ حل نہ ہوا تو بہت خون خرابہ ہوگا، شیخ رشید

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئندہ 2 سے 3 روزمیں مسئلہ حل نہ کیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور ملک میں خانہ جنگی کا مقدمہ نواز شریف پر بنے گا۔ اسلام آباد میں پمز اسپتال میں زیر علاج تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انہیں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے گزشتہ روز کے بیان پر بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں۔ ملکی معاملات کے حوالے سے رواں ہفتہ بہت اہم ہے۔ طاہر القادری اور عمران خان اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اس معاملے کے حل کے لئے دو سے 3 روز ہیں اگر دوران مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو بہت خون خرابہ ہوگا اور ملک میں خانہ جنگی کا مقدمہ نواز شریف پر بنے گا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ وہیں لوگ ہیں جنہوں نے انتخابات کے بعد 2،2 وزارتیں، گورنری اور اعلیٰ عہدے حاصل کرکے کمیشن کمایا ہے۔ جسے بھی عوام کے ساتھ رہنا ہے اسے عمران خان یا ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ دینا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو عمران خان کی حمایت کرنی چاہیئے کیونکہ ان دونوں جماعتوں باہر نکلنے سے ہی مسئلہ حل ہوگا۔

Tuesday, August 26, 2014

لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کردی


لاہور: ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن کورٹ کے حکم کے تحت سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواست خارج کردی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری زبیر نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ پولیس ایڈیشنل سیشن کورٹ کے حکم کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج نہیں کررہی۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو مقدمے کے اندراج کا حکم جاری کرے، وکیل استغاثہ کی جانب سے درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فریق نہیں اس لئے اس درخواست کو مسترد کردیا جائے۔ عدالت عالیہ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد دخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اس درخواست سے متعلق ماتحت عدلیہ کا فیصلہ برقراررکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کی درخواست پر پولیس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

عوام کو مہنگائی کا جھٹکا، بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں اضافے سے متعلق سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کی درخواست کی سماعت کی، اجلاس کے دوران نیپرا نے بجلی 43 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جولائی کےمہینےکی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے علاوہ ملک کے تمام صارفین پر ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 8 پیسے فی یونٹ کمی کی تھی۔

Monday, August 25, 2014

سیاسی بحران سے حصص مارکیٹ میں مندی، 352 پوائنٹس گرگئے


کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیاں دھرنا دینے والی سیاسی جماعتوں کی نئی دھمکیوں کے زیراثررہیں اورپیر کو بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی28800،28700 اور28600 کی 3 حدیں گرگئیں، 70.77 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 78 ارب 95 کروڑ 91 لاکھ 5 ہزار 537 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی وجہ سے بیشترشعبے غیرمتحرک ہوگئے ہیں جبکہ کچھ شعبے اپنے ہولڈ شدہ حصص فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسیاسی صورتحال سنبھل گئی تو مارکیٹ میں بہتری رونما ہوسکتی ہے کیونکہ لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن حالات بگڑنے کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر منگل کو سرکاری مالیاتی اداروں کی سپورٹ ہوئی تو کیپٹل مارکیٹ کو قدرے سہارا ملے گا۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 65 لاکھ 57 ہزار 508 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں تیزی رونما نہ ہوسکی کیوںکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 19 لاکھ 64 ہزار 709 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 2 لاکھ 2 ہزار 342 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے38 لاکھ 66 ہزار 699 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 5 لاکھ 23 ہزار 759 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا جس سے مارکیٹ تنزلی کی جانب گامزن رہی۔ نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 352.41 پوائنٹس کی کمی سے 28519.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 257.15 پوائنٹس کی کمی سے 19880.15 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 603.64 پوائنٹس کی کمی سے 46440.60 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 21.33 فیصد زائد رہااور مجموعی طور پر8 کروڑ25 لاکھ 22 ہزار 250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 308 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 71 کے بھاؤ میں اضافہ، 218 کے دام میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

سیاسی بحران سے حصص مارکیٹ میں مندی، 352 پوائنٹس گرگئے


کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیاں دھرنا دینے والی سیاسی جماعتوں کی نئی دھمکیوں کے زیراثررہیں اورپیر کو بھی مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی28800،28700 اور28600 کی 3 حدیں گرگئیں، 70.77 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 78 ارب 95 کروڑ 91 لاکھ 5 ہزار 537 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی وجہ سے بیشترشعبے غیرمتحرک ہوگئے ہیں جبکہ کچھ شعبے اپنے ہولڈ شدہ حصص فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسیاسی صورتحال سنبھل گئی تو مارکیٹ میں بہتری رونما ہوسکتی ہے کیونکہ لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن حالات بگڑنے کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر منگل کو سرکاری مالیاتی اداروں کی سپورٹ ہوئی تو کیپٹل مارکیٹ کو قدرے سہارا ملے گا۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 65 لاکھ 57 ہزار 508 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں تیزی رونما نہ ہوسکی کیوںکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 19 لاکھ 64 ہزار 709 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 2 لاکھ 2 ہزار 342 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے38 لاکھ 66 ہزار 699 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 5 لاکھ 23 ہزار 759 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا جس سے مارکیٹ تنزلی کی جانب گامزن رہی۔ نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 352.41 پوائنٹس کی کمی سے 28519.34 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 257.15 پوائنٹس کی کمی سے 19880.15 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 603.64 پوائنٹس کی کمی سے 46440.60 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 21.33 فیصد زائد رہااور مجموعی طور پر8 کروڑ25 لاکھ 22 ہزار 250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 308 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 71 کے بھاؤ میں اضافہ، 218 کے دام میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

دھرنوں کے براہ راست نقصان 800 ارب تک پہنچ گئے، خرم دستگیر


لاہور: وفاقی وزیر تجارت انجنئیرخرم دستگیر خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 800 ارب روپے کا براہ راست نقصان ہو چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سیاسی عدم استحکام پاکستان کا معاشی مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت گرنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں تقریباً 350 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 450 ارب روپے ڈوب چکے ہیں، سیاسی بے چینی کی وجہ سے چین اور سری لنکا کے صدور نے اپنے انتہائی اہم دورے منسوخ کردیے ہیں جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے متعدد منصوبے تاخیر کا شکارہو سکتے ہیں جبکہ اس منفی سیاست کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بلاواسطہ نقصانات سیکٹروں ارب کے ہیں جن سے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دھرنا دینے والے ہوس اقتدار میں پاکستان کی آنے والی نسلوں کے معاشی مسقبل کے ساتھ گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، یہ موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ ملک کے بڑے کاروباری مراکز میں حالات پر امن ہیں اور انشااللہ یہ امن قائم رکھا جائے گا، وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق حکومت کی ترجیحات آج بھی توانائی کے بحران سے نمٹنا، انتہا پسندی سے لڑنا اور معیشت کی فی الفور بحالی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پر عزم ہے کہ ان مقاصد کے حصول میں آنے والی رکاوٹوں کو جلد دور کر دیا جائیگا اور روشن پاکستان کے خواب کو حقیقت بنا کر پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

پاکستان مزید خبریں کیمروں اور کنٹرول سینٹر سے منسلک 100 موبائلیں پولیس کو فراہم بلدیہ عظمیٰ کی 36 سی این جی بسیں 2 ستمبر کو سڑکوں پر آئینگی، کرایہ 25 روپے مقرر عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چوری کرنے میں سابق چیف جسٹس کا سب سے بڑا ہاتھ تھا ، عمران خان حکمرانوں کو 48 گھنٹے دیتا ہوں ورنہ کفن میں پہنوں گا یا پھرنوازشریف کا اقتدار، طاہرالقادری عمران خان نے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے ہتک عزت کے دعویٰ کا جواب دیدیا Pages: 1 2 … 9,271 تازہ ترین سلائیڈ شوز ایکسپریس ایجوکیشن ایکسپو کی تصویری جھلکیاں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ نے ریڈ زون میں پڑاؤ ڈال لیا آزادی اور انقلاب مارچ کی تصویری جھلکیاں خالد ملٹری ایئربیس پر دہشتگردوں کا منظم حملہ ناکام حکمرانوں کو 48 گھنٹے دیتا ہوں ورنہ کفن میں پہنوں گا یا پھرنوازشریف کا اقتدار، طاہرالقادری

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے حکومت کو ایک بار پھر 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہےکہ ڈیڈ لائن گزرنے سے پہلے نظام لپیٹ کر اسمبلیاں ختم کردی جائیں ورنہ پھر دما دم مست قلندر ہوگا جبکہ شہادت کے لیے یا تو کفن میں پہنوں گا یا پھر نوازشریف کا اقتدار کفن پہنے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ انقلاب مارچ کے شرکا کا عزم و حوصلہ قابل قدر ہے،اس بات پر کسی کو اختلاف نہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس مقام پر عوام کا سمندر کسی نے نہیں دیکھا اور یہ سمندر 12 دن تک صبر کا عظیم نمونہ پیش کرکے بیٹھا رہا، ملکی تاریخ میں انقلاب مارچ کے دھرنے جیسی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے دھرنے کو انقلاب میں بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس انقلاب کی ابتدا ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے خون سے ہوئی اور یہ سب کچھ عوام کے صبر برداشت اور قربانیوں کے باعث ممکن ہوا کہ ہم آج اس مقام پر آگئے ہیں۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ بہت دیر قوم کے بیٹے بیٹیوں کو دھوپ میں نہیں جلا سکتا اور مزید پریشانیوں میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا،اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے سینوں میں دل نہیں، ان کے ضمیروں میں غیرت نہیں، انہیں قوم کے بیٹے بیٹیوں کے مصائب کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کنٹینر لگا کر پورے پاکستان کو سیل نہ کیا جاتا تو آج پنڈی اور اسلام آباد کی حدود میں عوام کو سمونے کی طاقت نہ ہوتی،جگہ جگہ کنٹینر لگائے گئے اور ہمارے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود عوام کا سمندر امڈ آیا، عوام غریبوں اور ناانصافیوں کے مارے لوگوں کی حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں،ملکی تاریخ میں کسی نے اتنا طویل دھرنا نہیں دیا لیکن حکمران اس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئے جبکہ مذاکرات بھی صرف وقت ضائع کرنے کے لیے کیے گئے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ حکمرانوں کے نزدیک غریبوں کے سمندر کی کوئی اہمیت نہیں، یہ غریب عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں،حکمران سمجھتے تھے کہ دھرنے کے شرکا تھک ہار کر گھروں کو چلےجائیں گے لیکن جب تک میں یہاں بیٹھا ہوں کوئی بھی واپس نہیں جائے گا۔ طاہرالقادری نے کہا کہ موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کو روز اول سے ہی ناجائز،غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتے ہیں،الیکشن کمیشن خود غیر آئینی تھا، اسے آئین کی خلاف ورزی کے تحت سیاسی مک مکا کرکے بنایا گیا جس کے خلاف سپریم کورٹ سمیت کسی سیاسی جماعت نے بھی بولنے کی جرات نہیں کی،سپریم کورٹ میں ایک شخص سیاسی نمائندہ بنے بیٹھا تھا جسے رائے ونڈ کے احکامات تھے جس پر وہ آئین کی طرف نہیں بلکہ کہیں اور چل پڑا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ غیر آئینی الیکشن کمیشن کے تحت ہونے والے انتخابات غیر آئینی اور دھاندلی شدہ تھے اور جب الیکشن غیر آئینی تھے تو اسمبلیاں،حکومتیں،وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ سمیت تمام وزرا بھی غیر آئینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو بھی متنبہ کیا تھا کہ 11 مئی کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر روئیں گے جس کو اب عمران خان نے بھی تسلیم کیا جبکہ اب سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن افضل خان نے بھی الیکشن کے دھاندلی شدہ ہونے کا اعلان کرکے ہمارے سچ کی تصدیق کردی ہے جس کے بعد اسمبلیوں اور حکومتوں کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہ گئی، اب عمران خان سے کہتا ہوں کہ دھاندلیوں کی تحقیقات کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس کرپٹ الیکشن کمیشن کے نمائندے نے خود پردہ اٹھا کربھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور تمام وزرا میری ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے اسمبلیاں توڑ دیں اور ایوانوں سے نکل جائیں کیونکہ اب یہاں بیٹھنے کا آئینی و قانونی تو دورکوئی اخلاقی جواز بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیڈ لائن پوری ہونے سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائے،جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس میں آزاد ممبران کے اختلافی نوٹ کو بھی عام کیا جائے تاکہ عوام کو پتا چلے کہ کمیشن اور جے آئی ٹی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کیا لکھا ہے، ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کاٹ کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت تمام نامزد افراد کو گرفتار کیا جائے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ اس ملک میں اب غریب اور مظلوم کے لیے کوئی حق نہیں ہے،دو ماہ بعد بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر تک درج نہ ہوسکی،عدالتیں اور قانون طاقتور حکمرانوں کے سامنے بے بس ہیں،عوام کے پاس اب کفن اور دفن ہونے کے سوا کوئی حق نہیں ،کوئی ادارہ بھی مظلوموں کی آواز سننے والا نہیں، اس لیے میں نے آج شہادت کی نیت کرلی ہے اگر یہاں تڑپ تڑپ کرمرنا ہے تو شہید ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے قائد اعظم کے خواب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،جن کے لیے ملک بنایا گیا تھا ان کے پاس سوائے دفن ہونے کے کچھ نہیں بچا،ملک کا قانون،آئین اور جمہوریت کمزوروں کیلئے نہیں بلکہ طاقتوروں کے لیے ہے یہ جنگ ہم آخری وقت تک لڑیں گے اب صرف دو امکان ہیں یا تو میں کفن پہنوں گا یا پھر نوازشریف کا اقتدار کفن پہنے گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ جب یہ نظام کفن پہنے گا تو غریب سرخرو ہوگا،اگر یہ اقتدار بچ گیا تو میں کفن پہنوں گا اور یہاں شہدا کا قبرستان بنے گا،نوازشریف سمیت سارے نظام کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتا ہوں اس نظام کا بستر لپیٹ کر حکومتیں ختم کرکے گھروں کو چلے جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہوگا اور ڈیڈ لائن کے بعد کسی چیز کی ذمہ داری میری نہیں ہوگی کیونکہ اب انقلاب آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اس لیے عوام گھروں میں بیٹھ کر ظلم کا ساتھ نہ دیں بلکہ نظام کے خاتمے کے لیے انقلاب مارچ میں شریک ہوجائیں، حکمرانوں سے ٹکرانے والا انسان روز پیدا نہیں ہوتا،میں شہید ہوجاؤں گا لیکن عوام کی نسلیں ظلم کے نظام میں پستی رہیں گی۔

Sunday, August 24, 2014

BREAKING NEWS

BREAKING NEWS: Additional Secretary Election Commission Mr. Afzal Khan today reveals that there was massive corruption and rigging in the 2013 general elections. He alleges that the Chief Justice interfered in the process of free and fair elections to result in the present regimes illegitimate rule! Please pray for his well-being as he has stood with the truth while putting his life and that of his family on the line. We have all seen what the PML(n) is capable of in Lahore and we wish Mr. Afzal Khan the best of health! Beshak Allah sach aur haq walon k saath hai .....

مضاربہ اسکینڈل میں رقوم کی جلدوصولی کاحکم


اسلام آباد: چیئرمین قومی احتساب بیورو قمر زمان چوہدری نے مضاربہ اسکینڈل میں لوٹی گئی رقوم کی وصولی میں خاص پیشرفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہارکیا ہے۔ قمر زمان چوہدری نے جمعرات کو نیب راولپنڈی کے دورے کے موقع پر افسران کو حکم دیا کہ لوٹی گئی رقوم کو وصول کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں۔ نیب ذرائع کے مطابق چیئرمین نے مضاربہ اسکینڈل میں عوام کے اربوں روپے لوٹنے والوں کوگرفتار اور ان سے رقوم کی ریکوری کے لیے متعدد بار نیب راولپنڈی کو احکام جاری کیے اور نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاسوں میں اس پر ہونے والی پیشرفت کو تیز کرنے اوراربوں روپے کی ریکوری کو جلد ممکن بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔ چیرمین قومی احتساب بیورو نے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کی ضبط کی گئی جائیدادوں سے متاثرین کو ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ریکوری کا عمل تیز کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی نیب نے مضاربہ سے متعلق ملزمان کی گرفتاری، بیرون ملک ملزمان کو واپس لانے کے اقدام اور ریفرنس عدالتوں میں دائرکرنے سے متعلق بریفنگ دی۔

نیا افغان صدر 2 ستمبر کو حلف اٹھائے گا، حامد کرزئی


کابل: حامد کرزئی نے کہا کہ ملک کے نئے افغان صدر 2 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے اور اس سلسلے میں حکومت کے انتظامات مکمل ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادار ےکے مطابق افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2 ستمبر کو نئے افغان صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لئے انتظامات مکمل ہیں، حلف برداری کی تقریب کی تاریخ تبدیل نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ افغان میں 5 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ملک کے نئے صدر کو 2 اگست کو حلف اٹھانا تھا لیکن صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے باعث گزشتہ 2 ماہ سے نیا افغان صدر حلف نہیں اٹھا سکا ہے۔

عمران خان نے شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو ضرور جاؤں گا،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق


لاہور: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کہتے ہیں کہ اگر عمران خان نے انہیں اپنی شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو اس کے لئے تیار ہیں۔ لاہور میں امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے اسپیکرقومی اسمبلی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دھرنوں سےمتعلق پیدا ہونے والی صورت حال اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے استعفوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے اپنے استعفے جمع کرایئے ہیں اگر یہ استعفے منظور ہوگئے تو اس سے قومی بحران میں اضافہ ہوجائے گا۔ دونوں فریقین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، دونوں جمہوریت اور عوام کی بھلائی بات کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دونوں کو باعزت راستے میں داخل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ملک کے 18 کروڑ عوان کے علاوہ دوست ممالک کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان میں جاری بحران ختم ہوجائے۔ ان کی دونوں فریقوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی انا کے خول سے باہر آکر باعزت راستے کی تلاش کریں۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کے استفعوں کی منظوری کا معاملہ چند ضروری معاملات کا متقاضی ہوتا ہے جس میں چند روز لگ جاتے ہیں تاہم امیر جماعت اسلامی نے ان سے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے کا معاملے میں تاخیر کرنے کی درخواست کی۔ اس معاملے میں وہ جس قدر ہوسکتا ہے کریں گے، انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد سراج الحق اور دیگر ساتھیوں سے امید ہے کہ جلد از جلد اس معاملے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئےگا۔ عمران خان کی شادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے شادی میں گواہ بننے کے لئے بلایا تو وہ ضرور جائیں گے جبکہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ نفرت کے ماحول میں شادی کی بات کرنابہت مثبت اشارہ ہے۔

نجم سیٹھی پی سی بی میں پھر سے جان پکڑنے لگے


لاہور: نجم سیٹھی پی سی بی میں پھر سے جان پکڑنے لگے، سابقہ مینجمنٹ کمیٹی چیف کواس مرتبہ ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرمین شپ مل گئی ہے۔ نو منتخب چیئرمین شہر یار خان کی زائد العمری کے باعث آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دور دراز کے ممالک کا سفر کرنے سے گریز کے فیصلے پر نجم سیٹھی کی آئی سی سی میٹنگز میں شرکت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ نجم سیٹھی کو پی سی بی ایگزیکٹیو کمیٹی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ گذشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں گورننگ بورڈ اجلاس کے دوران کیا گیا، نومنتخب چیئرمین شہریارخان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شکیل شیخ (اسلام آباد)، گل زادہ (پشاور)، پروفیسر اعجاز فاروقی (کراچی)، اقبال قاسم (نیشنل بینک)، امجد لطیف ( سوئی نادرن گیس)، یوسف نسیم کھوکھر (واپڈا) اور چوہدری اعجاز (فیڈرل سیکریٹری آئی پی سی ) نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد ، چیف فنانشل آفیسر بدر ایم خان، سلمان نصیر (سیکریٹری بورڈ آف گورنر) نے شرکت کی۔ یونائیٹڈ بینک کے منصورمسعود خان بیرون ملک ہونے کی وجہ سے میٹنگ کا حصہ نہیں بن سکے، انگلینڈ سے آڈیو لنک کے ذریعے ان سے مشاورت کی گئی۔ گورننگ بورڈ نے اتفاق رائے سے نجم سیٹھی کو ایگزیکٹیو بورڈ کا چیئرمین بنانے کی منظوری دی، کمیٹی میں سبحان احمد اور بدر ایم خان بھی شامل ہیں۔ ارکان نے پی سی بی کے 2014-15 بجٹ کی منظوری بھی دی جس کے بعد شرکا کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف کرکٹ سیریز کے میڈیا رائٹس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

70ہزارغیرملکیوں کا بائیو میٹرک ریکارڈ سسٹم میں شامل کر لیا، چیئرمین نادرا


راچی: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) نے 21اگست تک تقریباً 70 ہزار غیرملکیوں کا بائیومیٹرک ریکارڈ اپنے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں شامل کرلیا ہے جبکہ سابقہ اتھارٹی نارا کے پاس پہلے سے رجسٹرڈ پرانے ریکارڈ کی اسکیننگ کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نادرا محمد امتیاز تاجور نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا انھوں نے کہا کہ غیرملکیوں کی رجسٹریشن کیلیے ہر ممکن اقدام کیے جارہے ہیں جب کہ تمام وسائل اور تعاون ترجیحی بنیادوں پر مہیا کیے جارہے ہیں۔ نارا کے سابق ملازمین کا بائیومیٹرک ریکارڈ بھی نادرا نے تصدیق کے لیے مکمل کرلیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیرملکیوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کیلیے تمام تر ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ موبائل رجسٹریشن وینز (ایم آر ویز) غیر ملکی پاکستانیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کیلیے کراچی فشریز پر کام کررہی ہیں۔ اسی طرح مدارس کے ساتھ بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی طلبا کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کی جا سکے۔ چیرمین نادرا نے بتایا کہ 342 نئے غیرملکیوں کا ریکارڈ بھی بائیومیٹرک سسٹم میں شامل کیا گیا اور انھیں جلد ہی بائیومیٹرک خصوصیات کا حامل کمپیوٹرائزڈ کارڈ جاری کردیا جائے گا۔ اسی طرح کراچی کے مختلف زونل آفسز پر مینوئل کی تجدید؍ فریش رجسٹریشن کے ضمن میں ڈھائی ہزار غیرملکیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔ کورنگی فش ہاربر اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کارڈی نیشن سینٹر(جے ایم آئی سی سی) سے تعاون بھی کیا جارہا ہے تاکہ ماہی گیری پر جانے والے غیرملکی پاکستانیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کی جاسکے۔ ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ بریگیڈیئر (ر) زاہد حسین نے مزید کہا کہ منیجنگ ڈائریکٹر سائٹ کے ساتھ مختلف صنعتوں میں کام کرنے والے سندھ میں موجود غیر ملکیوں کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کیلیے ایک ملاقات بھی ہوئی ہے اور اس حوالے سے ایک اور اجلاس نادرا، ایم ڈی سائٹ اور سائٹ ایسوسی ایشن کے درمیان جلد ہوگا جس میں رجسٹریشن کے لیے طریقہ کار اور دیگر امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔ محمد امتیاز تاجورنے مزید کہا کہ بائیو میٹرک رجسٹریشن آفس کے انتظام کے لیے کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے ساتھ اشتراک کار بھی عمل میں آچکا ہے جہاں غیرملکی ماہی گیروں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سیکریٹری وزارت داخلہ حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے بھی مختلف امور پر تعاون طلب کیا گیا ہے ۔

نیا پاکستان اس لئے جلد بنانا چاہتا ہوں تاکہ شادی کرلوں، عمران خان

اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ علی بابا چالیس چور کہنے والے جمہوریت کے 2 غازی آج اکٹھے ہوگئے جب تک وزیراعظم نواز شریف استعفی نہ دے دیں اس وقت تک اسلام آباد میں دھرنا جاری رہے گا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کو صرف ایک ماہ کے لئے اقتدار سے علیحدگی کی آفر کی تاکہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے کمیشن تحقیقات کا آغاز کردے، اگر جوڈیشل کمیشن ثابت کر دے کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تو نواز شریف کو بطور وزیراعظم قبول کرلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع ہوگئی ہے عوام بجلی کے بل، ٹیکس، ٹول ٹیکس اس وقت تک نہ دیں جب تک وزیراعظم مستعفی نہ ہوجائیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی بینک کے ذریعے پیسے نہ بھیجیں، خوشی ہے کہ اب اس قوم پر کوئی کسی قسم کی ناانصافی نہیں کرسکتا اور کوئی اپنا غلام نہیں بنا سکتا۔ چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جتنی بہتر جمہوریت ہوتی ہے اتنی ہی بہتر حکومت ہوتی ہے،ملک میں رائج موجودہ جمہوریت اور حسنی مبارک کی جمہوریت میں کوئی فرق نہیں، حسنی مبارک اور اس کا خاندان امیر تھا اسی طرح یہاں حکمران امیر اور عوام غریب ہیں۔ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ میں بنی تھی پاکستان میں بھی انصاف کا نظام لانا تھا لیکن چھوٹے سے طبقے نے جمہوریت پر قبضہ کیا اور ملکی خزانہ باہر لے گئے، ہندوستان کے کسان کو سستی بجلی، پانی اور کھاد ملتی ہے لیکن ملک میں شریف بادشاہوں کو کسانوں کی کوئی فکر نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آج قوم جاگ چکی ہے، اللہ تعالی نے قوم میں شعور پیدا کردیا اور نوجوان اور گھروں میں بیٹھی خواتین بھی سیاسی عمل کا حصہ بن چکی ہیں، سارا پاکستان شعور رکھتا ہے کہ کون جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جمہوریٹ کی آڑ میں پیسا بنانا چاہتا ہے، خوشی ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنان بھی دھرنے میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ شعور رکھنے والے کراچی کے عوام ہیں اور عنقریب کراچی بھی جاؤں گا جبکہ شریف بادشاہت کا بندوبست کرنے کے بعد کوئٹہ میں بھی جلسے کروں گا ۔

Tuesday, August 19, 2014

مسلم لیگ ن کے رہنماءحنیف عباسی اہل خانہ سمیت لندن چلے گئے: نجی ٹی وی کا دعویٰ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماءاور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو پراجیکٹ کے چیئرمین حنیف عباسی کے اہل خانہ سمیت لندن چلے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ حنیف عباسی اتوار کے روز اہل خانہ سمیت لندن چلے گئے جبکہ وہ اپنے ساتھ کافی زیادہ سامان بھی لے کر گئے ہیں۔ جب ان سے جانے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کے داخلے کا مسئلہ ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حنیف عباسی نہ صرف راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کے چیئرمین ہیں بلکہ ان پر ایفی ڈرین کے بدنام زمانہ سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دے رکھا ہے جبکہ چیئرمین عمران خان آج شام چھ بجے ریڈ زون کی جانب مارچ کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔

سانحہ لاہور کا مقدمہ درج نہ ہوسکا، نواز اور شہباز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

لاہور: وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، وزرا اور پولیس افسروں کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج نہ ہوسکا۔ پاکستان عوامی تحریک کے وکلا عدالتی حکم نامہ لے کر پیر کے روز تھانہ فیصل ٹائون گئے تاہم ایس ایچ اوشریف سندھو موجود نہ تھے،عملے نے بتایا کہ وہ سی سی پی او آفس گئے ہوئے ہیں، وکلا 2گھنٹے تک تھانے میں موجود رہے تاہم کوئی ذمے دار افسر تھانے نہیں پہنچا۔ وہ مقدمہ درج کرنے پر اصرار کرتے رہے، اس دوران ان کی محرر سے تلخ کلامی بھی ہوئی، بعدازاں پولیس نے وکلا کی درخواست وصول کرلی۔ میڈیا سے گفتگو میں منصورآفریدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس عدالتی حکم پر بھی ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ایس ایچ او نے کہا ہے کہ درخواست میں اعلیٰ شخصیات کے نام ہیں وہ افسران کے احکام کے بغیرکوئی اقدام نہیں کر سکتا،مقدمہ درج نہ کیا گیا تو قانونی چارہ جوئی کریں گے ۔ادھر جوڈیشل ٹریبونل کی کارروائی منظر عام پر لانے کیلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی گئی، زبیر احمد نامی شہری نے موقف اختیار کیا کہ کارروائی کوسردخانے میں ڈال کر اصل حقائق کوچھپایا جارہا ہے۔ ادھر وزیراعظم نوازشریف، شہباز شریف، رانا ثنااللہ، چوہدری نثار، رانا مشہود اور مریم نوازسمیت اہم شخصیات کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی گئی۔ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیارکیا کہ سیشن کورٹ کے حکم کے بعد خدشہ ہے کہ یہ افراد بیرون ملک فرار ہوجائیں گے جبکہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا مارچ روکنے کے متعلق کیس میںفیصلے پر بھی نظر ثانی کی جائے۔

ریڈ زون میں ریڈ الرٹ، سرکاری عمارتوں پر شارپ شوٹر تعینات، لاہور پولیس کے 1500 اہلکار بھی پہنچ گئے


اسلام آباد / لاہور: وزارت داخلہ نے پولیس کو ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے ریڈزون میں تمام سرکاری عمارتوں پر شارپ شوٹر تعینات کردیے گئے۔ تحریک انصاف کے دھرنا کے شرکا کے ریڈزون میں داخلے کے ممکنہ اقدام کے پیش نظر وزارت داخلہ نے پولیس کو ریڈ الرٹ جاری کیا ہے ۔ ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلیے 3 حصار بنانے کی ہدایت کردی گئی۔ پہلے حصار میں وفاق اور پنجاب پولیس، دوسرے حصار میں ایف سی اوررینجرز اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ تیسرے حصار میں سیکیورٹی کی ذمے داری فوج کوسونپ دی گئی ہے۔ لاہور پولیس کے 1500 اہلکار بھی گزشتہ روز اسلام آباد روانہ ہوگئے جن میں اینٹی رائیڈ دستے بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زون کی سیکیورٹی کے پیش نظر لاہور پولیس کے اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔ دریں اثناء انقلاب اور آزادی دھرنوں کی وجہ سے بیشتر ممالک کے سفارتخانوں میں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔