Tuesday, September 23, 2014

Saturday, September 20, 2014

عمران خان اور طاہر القادری نے عوام کو نہ جانے کیا گھول کر پلا دیا ہے کہ جہاں جاؤ اورجس کو دیکھو وہ ملک میں انقلاب کی بات کرتا نظر آتا ہے چاہے اس کو انقلاب لفظ کے معانی کا سرے سے پتہ ہی نہ ہو۔


ہر ذی شعور اور عقل مند شخص تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات کو درست تسلیم کرتا ہے لیکن اُن مطالبات کی منظوری کے لئے اپنائے جانے والے طریقہ کار کو غلط قرار دیتا ہے۔ دو روز قبل میری ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا حامی ہوں اور نہ ہی تحریک انصاف کا ووٹر لیکن اس بات کا کریڈٹ خان صاحب کو دوں گا کہ انھوں نے عوام میں سیاست کا کچھ شعور ضرور اجاگر کیا ہے اور اب لوگ اپنے حق کی بات بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان ب باتوں کے باوجود اگر کوئی کراچی میں انقلاب کی بات کرے گا تو میرے خیال میں وہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف شخص ہی ہو گا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ بھائی آپ نے یہ کیا بات کردی تو جواب ملا کہ دیکھو، جب کراچی میں بجلی جاتی ہے تو ہم دوسری لائن سے کنڈا لگا لیتے ہیں اور اگر دوسری طرف کی لائٹ بھی چلی جاتی ہے تو ہم غیر قانونی طریقے سے گیس کے ذریعے جنریٹر چلا لیتے ہیں، نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کہ کوئی ہم سے پوچھے کیوں کہ ہم کراچی میں رہتے ہیں اور اگر ملک کے دیگر شہروں اور دیہات کی بات کی جائے تو وہ بھی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس کے بعد ان موصوف کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں بمشکل 15 سے 20 فیصد ایسے ایماندار لوگ ہوں گے جو پانی اور بجلی کا بل باقاعدگی سے اور پورا ادا کرتے ہوں گے تو ہم پاگل ہیں کہ انقلاب کی بات کریں۔ اگر اس ملک میں انقلاب آ گیا، جس کے آنے کے دور دور تک آثار نہیں ہیں تو پھر جب لوڈ شیڈنگ ہو گی تو ہم بجلی کیسے چوری کریں گے اور پھر ہمیں پانی اور بجلی کے بل بھی پورے ادا کرنے پڑیں گے۔ میں نے اپنے دوست کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ بھائی جب انقلاب آئے گا تو ملک کے نظام میں بہتری بھی تو آئے گی اور لوڈ شیڈنگ بھی کم ہوا کرے گی نا تو اس پر جواب ملا کہ بھائی جاؤ اپنا کام کرو یہ افسانوی انقلاب کی باتیں کراچی میں تو ممکن نظر نہیں آتیں۔ اتبا بڑا لیکچر دینے کے بعد میرے انقلاب مخالف دوست نے بریک نہیں لگائی بلکہ ملک کی ابتر صورتحال پر ایک اور موضوع کو چھیڑدیا۔ کہنے لگے کہ ان کے ایک جاننے والے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ 20 سال سے سرکاری اسکول میں ٹیچرکی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن جب سے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تو ان کا معمول ہے کہ صبح ہوتے ہی عمران خان کے خلاف مغلظات بکنا شروع کرتے ہیں اور شام تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ اس حکومت کے آنے سے پہلےوہ اسکول جائیں یا نہیں یہ اُن کی اپنی مرضی ہوا کرتی تھی اور جس دن اُن کی مرضی اسکول کا رُخ کرنے کے لیے حامی بھرتی تھی اُس دن بھی وہ جب دل چاہے واپس آ جاتے تھے غرض یہ کہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا لیکن جب سے صوبے میں عمران خان کی حکومت بنی ہے تو اُن کی زندگی عذاب بن گئی ہے ۔ اب انہیں روزانہ 5 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرکے اسکول جانا پڑتا ہے اور پھر تھمب امپریشن کی مدد سے آنے اور جانے کا ٹائم بھی نوٹ کرانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اُن کے مال مویشی سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں اور پھر جب میں واپس جاتا ہوں تو ان کی خدمت کرتا ہوں۔ اتنے بڑے لیکچر سننے کے بعد مجھے میری کمزوریوں کا بھی احساس ہوا اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنی دوست کی بات کی حمایت کرنی پڑی اور اُن سے کہا کہ واقعی کہا تو آپ نے درست ہی ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی سرکاری نوکری ہو تاکہ وہ بھی اپنی مرضی سے دفتر جائے اور ہفتے میں 4 دن جائے یا پھر پورا ہفتہ بھی غائب رہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اگرچہ گزشتہ 67 کی خرابیوں نے مجھے بھی غلطیوں اور خرابیوں کا پیکر بنا دیا ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا حکمران چور ہو تاکہ مجھے بھی چوری کا پورا اختیار ہو۔ لیکن یہ میرا ذاتی فائدہ ہے اِس ملک کا نہیں۔ اِس ملک میں رہنے والوں کی اکثریت اب بھی ایسی زندگی گزاررہی ہے جو کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ اگر چہ اُس اکثریت کو کچھ کہنے کا حق نہیں دیا گیا مگر سوچنے پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتا ۔ وہ آج بھی اِس وطن عزیز کو فلاحی ریاست بنتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ سب کچھ روایتی حکمرانوں کی موجودگی میں تو مکمل طور پر ناممکن ہے ۔ لہذا میری عمران خان اور طاہر القادری سے ایک چھوٹی سی التجا ہے کہ خدارا لوگوں نے آپ سے اگر امیدیں باندھ ہی لی ہیں تو انھیں پچھلے حکمرانوں کی طرح مایوس مت کیجیئے گا کیونکہ اگر آپ دونوں نے بھی قوم کو مایوس کیا تو یہ نہ ہو کہ قوم کو آئندہ انقلاب کے نام سے بھی نفرت ہو جائے۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کراچی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ نواز شریف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، قربانی سے پہلے قربانی ہوگی، 2015 انتخابات کا سال ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کوئی کسی کو پاک فوج کی پیداوار کا طعنہ نہ دیں، اس ملک میں کوئی ایک بھی ایسا سیاست دان نہیں جسے فوج کی حمایت حاصل نہ رہی ہو خود نواز شریف جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں۔ نواز شریف ایک کاروباری وزیر اعظم ہیں انہوں نے اپنے دور حکومت میں جرنیلوں اور ججوں کو خریدا۔ ہم مسائل میں گھرے عوام کے لئے لڑرہے ہیں، نواز شریف جمہوریت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں، جہاں نوازشریف جائیں گے دھرنا بھی وہاں جائے گا۔ انہیں ایک نشست والی جماعت کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نوازشریف کی حمایت کرنے والی 11 میں سے 8 جماعتیں زیادہ نمائندگی نہیں رکھتیں۔ وہ عمران خان کے اتحادی ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا دشمن ایک ہی ہے اور نواز شریف سے نجات دونوں ہی کا ایجنڈا ہے، اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ کہ دونوں رہنماؤں کو لاہور سے ایک ساتھ نکلنا پڑے گا اور اسلام آباد میں اکٹھا ہونا پڑے گا اور بالاخر یہی ہوا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بہت اہم تھا لیکن اب اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خط بھی سامنے آگیا ہے اور جلد ہی جرنیلوں کے حلف نامے بھی آجائیں گے۔ اب معاملہ پرویز مشرف کا نہیں نواز شریف کے استعفے کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک جماعت ہوگئی ہے، خورشید شاہ کے خلاف نیب میں موجود کیسز ختم ہورہے ہیں اس لئے وہ نواز شریف کی حمایت میں بول رہے ہیں لیکن نواز شریف کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 2015 انتخابات کا سال ہے اور قربانی سے پہلے قربانی ہوگی۔

Wednesday, September 10, 2014

نوازشریف کو ہٹائے جانے کاخطرہ ہے، امریکی تھنک ٹینک

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے تھنک ٹینک(سی آرایس) نے کہا ہے کہ نوازشریف کوعہدے سے ہٹائے جانے کے خطرات کا سامنا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی ’’پاکستان کاسیاسی بحران‘‘ کے عنوان سے جاری تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے بھارت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہونے کاخدشہ ہے۔ سی آرایس کے جنوبی ایشیائی امورسے متعلق ماہرایلن کروسٹیڈکی جانب سے تیارہ کردہ اس رپورٹ میں کہا گیاہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے سیاسی بحران پرقابوپانے اور مظاہرین وحکومت سے مذاکرات کے لیے بطورسہولت کارفوج کی مدد طلب کی۔ اس سلسلے میںکئی تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اگرچہ انھوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے سویلین اداروں پر کنٹرول کااظہار نہیں کیا تواس سے وہ کمزورصورتحال میںہیں۔کئی مبصرین کایہ بھی کہناہے کہ موجودہ سیاسی بحران نوازشریف کوکمزور کررہا ہے اورملک میں جمہوری عمل کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ مبصرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ فوج حکومت کابراہ راست کنٹرول حاصل کرناچاہے

Friday, September 5, 2014

صدر کا دورہ پاکستان طے ہی نہیں ہوا، منسوخی کی رپورٹس غلط ہیں، چینی وزارت خارجہ


بیجنگ: چین نے صدرژی جن پنگ کے دورہ پاکستان کی منسوخی سے متعلق رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی دورہ حکومتی سطح پر طے ہی نہیں تھا۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان قائن گینگ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے کبھی سرکاری سطح پر صدر کے دورہ پاکستان کا اعلان ہی نہیں کیا تھا تاہم صدر کے رواں ماہ کے وسط میں سری لنکا، بھارت اور پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان بہترین ہمسایہ دوست ممالک ہیں، دونوں ملک آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کیساتھ رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انھوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ ملکی استحکام کیلیے پاکستانی فریقین سیاسی مفاہمت سے کام لیں۔

طاہرالقادری اور 10 کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

راولپنڈی: انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور عوامی تحریک کے10کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور حکم دیا ہے کہ ان سب کو گرفتار کر کے جمعہ 12 ستمبر کو عدالت پیش کیا جائے۔ ان کیخلاف انقلاب مارچ کے دوران انٹرچینج پر پولیس کے ساتھ تصادم کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور درجن بھر پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس کی شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج سے50کے قریب عوامی تحریک کی خواتین بچے اور مرد بھی زخمی ہوگئے تھے۔ آر پی او راولپنڈی کے حکم پرکانسٹیبل کی ہلاکت کا مقدمہ ڈاکٹر طاہر القادری کیخلاف درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا گوجرانوالہ سے نمائندے کے مطابق انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج چوہدری امتیاز نے پولیس تشدد کیس میں ملوث عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے تیسری مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انھیں 15 ستمبر کو گرفتار کر کے پیش کرنیکا حکم دیا ہے۔

Wednesday, September 3, 2014

عمران، قادری اور دیگر رہنماؤں کیخلاف 11 مقدمات درج

اسلام آباد / راولپنڈی: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری، شیخ رشید، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، جہانگیرترین،عارف علوی، شفقت محمود و دیگرپارٹی رہنماؤں اور 22 ہزار کارکنوں کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس، اہم سرکاری عمارتوں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ، راستے بند کرنے اور دیگر الزامات کے تحت اسلام آباد کے 6 تھانوں میں انسداددہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 دیگرسنگین دفعات کے تحت11مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ تھانہ آبپارہ ،کورال اور بھارہ کہومیں ایک ایک، تھانہ مارگلہ میں2جبکہ تھانہ سیکریٹریٹ اور تھانہ کوہسار میں تین تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔پی ٹی وی، پارلیمنٹ ہائوس ودیگراہم سرکاری دفاترپرقبضہ کرنے اور قبضہ کرانے کے الزام میں عمران خان،طاہرالقادری،خرم نواز،رحیق عباسی،عامرمغل ودیگرنامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس جانے کے اعلان کے بعد دھرنا میں بھگدڑمچنے سے گلفام بھٹی اور رفیع اللہ شدیدزخمی ہوئے جو بعدازاں جاں بحق ہوگئے لہٰذامذکورہ دونوں رہنماؤں کیخلاف مقدمہ میں قتل،اقدام قتل،بلوہ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔شاہ محمودقریشی،عارف علوی،جہانگیرترین سمیت6رہنمائوں اور20کارکنوں کیخلاف پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسملی افتخار مشوانی کوتھانہ سے چھڑانے کا مقدمہ درج کیا گیاہے۔ تھانہ سیکریٹریٹ کے محرر ملک محمدحیات نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایاکہ ملزم افتخارمشوانی مقدمہ نمبر182 میں گرفتارتھے۔ شاہ محمودقریشی کی قیادت میں پی ٹی آئی رہنمااور20کارکنوں نے تھانہ پردھاوا بول دیا اور افتخارمشوانی کو زبردستی چھین کرفرار ہوگئے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثارکی سرکاری کارکوروک کر پتھراؤکرکے شدید نقصان پہنچانے کے الزام میں پی ٹی آئی اورعوامی تحریک کے کارکنوں کیخلاف تھانہ کوہسارمیں مقدمہ نمبر405درج کرلیاگیا ہے۔ یہ مقدمہ فاضل جج کے ڈرائیور نے درج کرایا،واقعے کے وقت فاضل جج گاڑی میں موجود نہیں تھے۔دریں اثناتحریک انصاف اور عوامی تحریک کے103کارکنوںکو ڈیوٹی مجسٹریٹ نے 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا ہے۔ادھر اسلام آباد پولیس نے مذکورہ بالا مقدمات میں آئندہ24گھنٹوں کے اندربڑے پیمانے پرکریک ڈاؤن کرنے کے پلان کو حتمی شکل دیدی ہے مگر وزیرداخلہ کے حتمی حکم کاانتظار ہے۔ ایک سینئر پولیس آفیسرنے بتایاکہ مقدمات میں شہادت کے طورپرعمران خان اور طاہرالقادری کی تقریریں شامل کی جائیںگی۔ان کا کہناتھاکہ عمران خان کوحکومت فوری گرفتارکرنانہیں چاہتی البتہ طاہرالقادری کو گرفتار یا ضلع بدر کرنے کا آپشن وزارت داخلہ کے پاس موجودہے۔ تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے116 کارکنوں کوتھانہ سیکریٹریٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ،قتل،اقدام قتل،املاک کو نقصان پہنچانے اور اعانت جرم میں درج 2مختلف مقدمات میں باقاعدہ گرفتاری ظاہرکرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیاگیا۔راولپنڈی کے مختلف مقامات سے حراست میں لے کر اڈیالہ جیل میں نظر بندکیے گئے مزید6افرادکو ضلعی انتظامیہ کے احکامات ملنے پر رہا کردیا گیا۔ راولپنڈی کیتھانہ ایئرپورٹ میں تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں سمیت50 کارکنوں کیخلاف املاک کونقصان پہنچانے اور دفعہ144کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیاگیا ۔یہ مقدمہ سیکیورٹی ڈویژن میں تعینات پولیس ملازم محمد بشیر نے درج کرایا جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے پتھرائوکے نتیجے میں سرکاری گاڑی کے 4 شیشے ٹوٹ گئے۔

باغی نہیں ’’داغی‘‘ جاوید ہاشمی پر پی ٹی آئی کے ورکرز شدید برہم

لاہور: تحریک انصاف کے اسلام آباد میں20 روز سے جاری دھرنے اور عمران خان کے پر عزم رویے نے پارٹی کارکنوں کے جوش و خروش کو اس حد تک جوان کر دیا ہے کہ جاوید ہاشمی کے بیانات اور مرکزی قیادت پر الزامات کے باوجود اس کے اعتماد میں کمی نہیں آئی بلکہ جماعت کے اندر اور سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم چل پڑی ہے۔ جس میں جاوید ہاشمی کو ’’باغی‘‘ کی جگہ’’داغی‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی لاہور اور اسلام آباد کے دھرنوں میں درجنوں کارکنوں نے ’’باغی نہیں داغی۔۔الوداع‘‘کے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ تحریک انصاف کے نوجوان ورکرز جو کہ جاوید ہاشمی کو بہت اہمیت دیتے تھے ان میں بھی جاوید ہاشمی کی نئی’’بغاوت‘‘پر شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ انکی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جانے کی انکوائری رپورٹ کے بعد جاوید ہاشمی کی ساکھ گر گئی تھی اور کئی ماہ سے ان کے مسلم لیگ(ن) بالخصوص خواجہ سعد رفیق کے ساتھ خفیہ رابطوں کی افواہیں بھی گردش میں تھیں۔گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران عمران خان پر حکومت اور اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے تابڑ توڑ سیاسی حملوں کے باوجود تحریک انصاف کے ورکر پرعزم ہیں اور انہیں اپنی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔

Tuesday, September 2, 2014

Chairman PTI Imran Khan today categorically stated that in his 18 years struggle for Insaf and democracy he has never needed any crutches to bolster him politically. He has always stood by his principles of fighting for real democracy and the rights of the ordinary people of Pakistan regardless of caste or creed. He neither needs to nor would seek to approach the military on political issues. In fact Khan reminded that throughout the Azadi March he has emphasised that he would never accept any undemocratic action or intervention.


ریڈ زون میں مظاہرین ایک مرتبہ پھر متحرک، پی ٹی وی چوک سے کئی کنٹینر ہٹا دیئے گئے


اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں رات بھر سکون کے بعد مظاہرین ایک مرتبہ پر متحرک ہوگئے ہیں اور پی ٹی وی چوک پر موجود کنٹینرز کو گرایا جارہا ہے۔ شاہراہ دستور اور اور مارگلہ روڈ کے سنگم پر پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے جو پنجاب ہاؤس کے مرکزی دروازے تک موجود ہے۔ شاہراہ دستور پر پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا قبضہ ہے جو ہر آنے جانے والی گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں تاہم وہ کسی شخص کو آگے نہیں جانے دے رہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان سیکریٹریٹ کے ملازمین بری امام کے راستے سے ’’کے‘‘ بلاک پہنچتے ہیں جہاں سے وہ اپنے منزل مقصود تک پیدل ہی پہنچ رہے ہیں جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار تک کسی بھی شخص کو پہنچنے کے لئے عوامی تحریک کے کارکنوں کی اجازت درکار ہے۔ دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پی ٹی وی چوک پر موجود یکے بعد دیگرے کنٹینر ہٹا رہے ہیں تاہم وہاں انہیں کوئی بھی روکنے والا ہی نہیں۔ ہر کنٹینر گرانے کے بعد مظاہرین خوشی کے اظہار کرتے ہوئے مسلسل نعرے لگارہے ہیں۔ چوک کے ساتھ ہی سرکاری ٹی وی کا ہیڈ کوارٹر بھی موجود ہے تاہم گزشتہ روز کی نسبت آج وہاں معمول کے مطابق ملازمین اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

موجودہ سیاسی بحران پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، ارکان کی دھواں دھار تقاریر


Monday, September 1, 2014

عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق قائم مقام آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں عمران خان اور طاہرالقادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر میں جھتہ بنا کر پولیس پر حملہ کرنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں شامل تمام دفعات ناقابل ضمانت ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری کے علاوہ تحریک انصاف کے ڈپٹی چیرمین شاہ محمود قریشی، صدر تحریک انصاف پنجاب چوہدری اعجاز، عوامی تحریک صدر رحقیق عباسی، خرم نواز گنڈا پور اور دیگر مرکزی قائدین کے ساتھ ساتھ سیکڑوں کارکنوں کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے، ایف آئی آر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی کو بھی ایف آئی آر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی وزیراعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور مظاہرین پر آنسو گیس فائر کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔

لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان کر دیا


کراچی: ن لیگ کے ناراض رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی نے پارٹی عہدے چھوڑنے کے10 ماہ بعد ن لیگ سے اپنے ساتھیوں سمیت علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مظاہرین کے خلاف انتظامی ردعمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے نواز شریف اور شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج سے ن لیگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، میرے اور میرے ساتھیوں کی ن لیگ سے علیحدگی کا مطلب سندھ کے 5 لاکھ لوگوں کی علیحدگی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اسلام آباد میں پولیس نے مظاہرین پر بے انتہا ظلم کیا ہے، ہم بچوں اور خواتین پر ظلم کرنے والوں کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتے۔ لیاقیت جتوئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنی نا سمجھی سے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، شریف برادران فوری طور پرمستعفی ہوجائیں اور مسائل کے حل کے لیے قومی حکومت قائم کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔

فوج کی نگرانی میں نگراں قومی حکومت کا قیام ناگزیر ہے، پرویز مشرف


کراچی: آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فوج کی نگرانی میں نگراں حکومت کا قیام نا گزیر ہو چکا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پر امن احتجاج عوام پاکستان کا آئینی وجمہوری حق ہے مگر دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آکر ہمیشہ فوج کے خلاف سازش کرنے والے سازشوں کو نہ صرف اسمبلی کے فلور تک لے گئے بلکہ اسلام آباد میں 2 ہفتوں سے زائدپرامن احتجاج کرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے علاوہ حکمرانوں کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھانے والے میڈیا نمائندگان پر بھی ریاستی تشددکے ذریعے جس کردارکا مظاہرہ کررہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ’ج‘‘ سے جمہوریت اور ’’ج‘‘ سے جبر کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اے پی ایم ایل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پرویزمشرف نے فوج کومداخلت پرمجبور کرنے کی حکومتی پالیسی پرتنقیدکرتے ہوئے کہاہے کہ ملک سنبھالنے اورعوام کوڈلیور کرنے میں ناکام حکمران سیاسی شہیدبنناچاہتے ہیں اوراسی لیے دانستہ جمہوریت کیلیے خطرات پیداکررہے ہیں۔ پرویز مشرف نے انقلاب مارچ کے شرکااور صحافیوں پر بدترین تشددکوعوام وجمہوریت کش پالیسی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اب موجودہ ٹولہ مزید حکمران رہاتوجمہوریت پر سے عوام کااعتمادبھی اٹھ جائے گا۔

ملک کو شریف برادران کی بادشاہت سے واگزار کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا، طاہر القادری

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ملک کو شریف برادران کی بادشاہت سے واگزار کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا ہے، ان کا آرمی چیف سے نہ پہلے کبھی رابطہ تھا نہ ہی چند روز قبل ہونے والی ملاقات کے بعد کوئی رابطہ ہے۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکومت کی فطرت میں دہشت، بربریت اور ظلم ہے۔ ہفتے کی رات پولیس کی جانب سے پر امن مظاہرین پر جبر و تشدد کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ جس کے بعد آج ایک مرتبہ پھر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی، حکومت جمہوریت اور مزاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر وہ بات چیت کے لئے رابطہ بھی کرتے ہیں تو ایک قدم آّگے نہیں بڑھنا چاہتے۔ انہوں نے شریف برادران کو آّئین، قانون، جمہوریت اور آئین پاکستان سمجھ رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی بادشاہت سے پورے ملک کو یرغمال بنالیا ہے۔ ملک کو ان کی بادشاہت سے واگزار اور انقلاب کے ذریعے اس ملک کے کروڑوں عوام کو آزاد کرانا ہم سب پر واجب ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے راستے اختیار کئے بغیر مذاکرات کے ذریعے سیاسی طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جائے مگر بدقسمتی سے حکومت تشدد کے سوا کسی دوسرے طریقے پر اعتماد نہیں کرتی، یہ لوگ صرف ظلم ، جبر اور ریاستی اداروں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا آرمی چیف سے کبھی پہلے رابطہ تھا نہ ہی چند روز قبل ہونے والی ملاقات کے بعد کوئی رابطہ ہے۔ ہم ان معاملات کو پاک فوج کو شامل کرنے کے حق میں نہیں اور پاک فوج بھی اس میں شامل ہونا نہیں چاہتی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے آرمی چیف کو اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔