لاہور: تحریک انصاف کے اسلام آباد میں20 روز سے جاری دھرنے اور عمران خان کے پر عزم رویے نے پارٹی کارکنوں کے جوش و خروش کو اس حد تک جوان کر دیا ہے کہ جاوید ہاشمی کے بیانات اور مرکزی قیادت پر الزامات کے باوجود اس کے اعتماد میں کمی نہیں آئی بلکہ جماعت کے اندر اور سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم چل پڑی ہے۔ جس میں جاوید ہاشمی کو ’’باغی‘‘ کی جگہ’’داغی‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز بھی لاہور اور اسلام آباد کے دھرنوں میں درجنوں کارکنوں نے ’’باغی نہیں داغی۔۔الوداع‘‘کے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ تحریک انصاف کے نوجوان ورکرز جو کہ جاوید ہاشمی کو بہت اہمیت دیتے تھے ان میں بھی جاوید ہاشمی کی نئی’’بغاوت‘‘پر شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ انکی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جانے کی انکوائری رپورٹ کے بعد جاوید ہاشمی کی ساکھ گر گئی تھی اور کئی ماہ سے ان کے مسلم لیگ(ن) بالخصوص خواجہ سعد رفیق کے ساتھ خفیہ رابطوں کی افواہیں بھی گردش میں تھیں۔گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران عمران خان پر حکومت اور اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے تابڑ توڑ سیاسی حملوں کے باوجود تحریک انصاف کے ورکر پرعزم ہیں اور انہیں اپنی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔
Wednesday, September 3, 2014
باغی نہیں ’’داغی‘‘ جاوید ہاشمی پر پی ٹی آئی کے ورکرز شدید برہم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment